خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 80

خطبات طاہر جلد ۶ 80 80 خطبہ جمعہ ۳۰ / جنوری ۱۹۸۷ء تم کیا خوف کرو گے تم تو اولیاء اللہ ہو۔خوف تم سے بھاگے گا اور تم سے خوف کرے گا۔حزن تمہارے مقدر میں نہیں ہے کہ تم اولیاء اللہ ہو۔پس اولیاء اللہ کا مضمون پہلے بیان کر کے آنے والے خطرات کا تدارک پہلے ہی فرما دیا۔پس وہ لوگ جو یہ زعم لے کر اٹھے ہیں اور منصوبے بنارہے ہیں کہ آپ کو کسی قسم کا نقصان پہنچائیں گے، ان کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہاں ذکر فرما کر اس کا علاج بھی فرمایا اور پھر وضاحت فرمائی لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ یہ اتنے کوتاہ دست لوگ ہیں ان کی طاقتوں کا پول اس طرح کھل جاتا ہے کہ اس دنیا کے ہوتے ہوئے اس دنیا پر بھی ان کی کوئی طاقت کام نہیں کرے گی، ان کی کوئی تدبیر کام نہیں کرے گی۔تمہیں دنیا کی خوشیوں سے بھی محروم نہیں کر سکیں لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ آخرت تو ہے ہی مومنوں کی مگر فرمایا یہ دنیا بھی تمہاری نہیں چھین سکیں گے ہم تمہیں یہ ابھی بتا دیتے ہیں لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللهِ خدا کے کلمات میں ، خدا کی تقدیر میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔پھر دوباره تکرار فرمائی وَلَا يَحْزُنُكَ قَوْلُهُمُ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلهِ جَمِيعًا اب یہاں دیکھیں پہلے اولیاء اللہ کہہ کر خطرے بیان کرنے سے پہلے دل کو تسلی دے دی تھی اب چونکہ دل کو تسلی دے چکا ہے اللہ تعالیٰ اب یہاں حزن کا مضمون پہلے بیان ہوا ہے اور اُس کو دور کرنے کے متعلق خوشخبری بعد میں دی جا رہی ہے جو نارمل طریقہ ہے۔لَا يَحْزُنُكَ قَوْلُهُمُ اے محمدمصطفی سے تجھے ان کی باتیں بھی کسی قسم کا غم نہ پہنچائیں۔اس سے پہلے جو حزن تھا اس سے مراد یہ تھی کہ یہ جو شرارتیں کر رہے ہیں تیرے خلاف جھوٹی تدبیریں کر رہے ہیں ، مکر سے کام لے رہے ہیں اس کا عملاً کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ، اس لئے کوئی حزن نہیں۔یہاں اس مضمون کو آگے بڑھا کہ فرمایا وَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ جب تجھے پتا چل چکا ہے کہ خدا تیرے ساتھ ہے اور خدا کی تقدیر تیری حفاظت فرمائے گی اور تیرے غلاموں کی حفاظت فرمائے گی اور وہ لازما کامیاب ہوں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تو پھر ان کے قول سے بھی غم نہ کر۔اس وقت جماعت جس دور سے گزررہی ہے وہاں اس آیت کا یہ حصہ بہت ہی تفصیل کے ساتھ صادق آ رہا ہے۔اکثر احمدی پاکستان سے خط لکھتے ہیں کہ ان کی تدبیروں کا ہمیں کوئی خوف نہیں ہے۔جو قربانی خدا کے رستے میں ہمیں دینی پڑی ہم شوق سے اور سعادت سمجھتے ہوئے دیں گے