خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 811 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 811

خطبات طاہر جلد ۶ 811 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۷ء ہمیں اس سے غرض نہیں لیکن جو تم کام کر رہے ہو اس کے نتیجے میں جماعت میں فتنہ وفساد پیدا ہوگا۔پھر انفرادی طور پر بعض فحشاء پھیلانے والے ہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں بدکردار ہے اور فلاں بد کردار ہے اور ظلم کی بات یہ ہے کہ لوگ ان کی باتوں کو سن لیتے ہیں۔سوائے ایک صورت کے اور کسی صورت میں یہ بات سننا جائز نہیں۔سننے والے کا منہ بند کرنا ضروری ہے اس موقع پر اور کہنا ضروری ہے کہ قرآن کریم نے اس بات کی تمہیں اجازت نہیں دی اور قرآنی اصطلاح میں تم جھوٹے ہو کیونکہ تم غلط جگہ بات کر رہے ہو اور جو بات کر رہے ہو اس کے گواہ تمہارے پاس نہیں ہیں۔اگر گواہ ہیں تو پھر بھی ہمارے پاس بات نہ کرو پھر تمہیں چاہئے کہ نظام جماعت کے پاس جاؤ جو لوگ مقرر ہیں اس بات پر ان سے بات کرو۔یہ بات سننا کسی کے لئے جائز ہی نہیں ہے کیونکہ اسی سے آگے فحشاء پھیلتی ہیں سوائے ایک صورت کے وہ ایک مریض کے متعلق نظام جماعت کو مطلع کرنے کی خاطر اس کی بات سنتا ہے تاکہ نظام جماعت کو معلوم ہو جائے کہ ایک بیماری کا گڑھ ہے جو وائرس کا شکار ہے اور جگہ جگہ پھر رہا ہے اور اس وائرس کو پھیلا رہا ہے۔جس طرح بعض مریض ہیں جو بیماریاں پھیلاتے ہیں ان کے متعلق بر وقت اطلاع کر دی جاتی ہے بعض باؤلے کتے پھر رہے ہوتے ہیں ان کے کاٹنے سے پاگل پن ہو جاتا ہے جن کو کاٹتے ہیں وہ پاگل ہو جاتے ہیں۔ان کے متعلق اطلاع کرنا تو فرض ہے۔اس لئے اگر کوئی اطلاع کی خاطر کسی کی بات کوسن کر غور سے کیا کہتا ہے اور اچھی طرح ذہن نشین کر کے تا کہ اس کی طرف غلط بات منسوب نہ کرے پھر وہ بات نظام جماعت تک پہنچائے تو یہ سننانا جائز نہیں ہے لیکن شرط یہ ہے کہ بلا کم و کاست اس بات کو پھر ضرور نظام جماعت تک پہنچائے اس کے بغیر اس کو کوئی حق نہیں ہے۔تو جتنے فحشاء پھیلتے ہیں، جتنے اعتماد اٹھتے ہیں نظام جماعت سے، جتنے فساد پیدا ہوتے ہیں ان کے نتیجے میں آپ کی زندگی کا ہر اجتماعی شعبہ متاثر ہو جاتا ہے۔کسی اجتماعی شعبے کی حفاظت کی یقین دہانی نہیں کی جاسکتی۔اوپر سے نیچے تک آپ دشمن کے سامنے اپنے سینے ننگے کر کے کھڑے ہیں گویا اور اس کے لئے قرآن کریم نے آپ کو جو ڈھال دی تھی اس کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور وہ ڈھال اسی آیت میں بیان فرمائی گئی ہے۔ہر جماعت احمدیہ کے ممبر کا فرض ہے اس نے لمبے سفر کرنے ہیں ابھی اپنے معاشرے اپنے