خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 812
خطبات طاہر جلد ۶ 812 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۷ء نظام کی حفاظت کرنی ہے چونکہ یہ جماعت ایک سو سال کے لئے تو نہیں تھی ابھی تو ہمیں اپنے اعلیٰ تر مقصد کو حاصل کرنے میں یعنی دین محمد مصطفی ﷺ کو تمام ادیان پر غالب کرنے میں بڑا وقت درکار ہے۔اس وقت سے پہلے اگر آپ ان قدروں سے ہٹ جائیں گے، ان بنیادی اصولوں سے ہٹ جائیں گے ، جن کے ہٹنے کی قرآن کریم کسی قیمت پر اجازت نہیں دیتا ، جن کے متعلق کھول کر بیان کر رہا ہے کہ ایک ذرہ بھی تم ان مناصب سے ہٹو گے تو اس کا نتیجہ لا زما موت ہے اور فساد ہے اور بے نظمی ہے کچھ بھی تمہارے پاس باقی نہیں رہے گا۔اتنی واضح نصیحت کے باوجود اگر آپ بار باران باتوں کو نظر انداز کریں گے بار بار نصیحت کو سنیں گے اور پھر بھی فحشاء کو اپنے اندر پھیلنے دیں گے چسکوں کی خاطر یا عورتوں اور مردوں کے جھگڑوں کو اپنے کانوں کے چسکوں کی خاطر سنیں گے تو آپ قومی مجرم ہیں نیت بھلائی کی ہے یا نہیں یہ میں نہیں جانتا لیکن قومی مجرم ضرور ہیں آپ۔اس لئے ساری دنیا کے احمدیوں کو اس بات میں متنبہ ہو جانا چاہئے جو اختیار ان کو دیا گیا ہے اس سے انہوں نے نہیں ہٹنا، جو اختیار قرآن کریم نے بنی نوع انسان کو دیئے ہیں اس سے اگر وہ ہٹتے ہیں تو پھر آپ نہ نہیں اور ان کو یک طرفہ ٹکر انے والا سمجھ لیں لیکن آپ نے اپنے مقام کو چھوڑ کر ان کی طرف مائل نہیں ہونا۔اگر یہ ہوگا تو جیسا کہ میں نے بیان کیا تفاوت پھر نہیں ہوگا۔پھر اگر آپ سے کوئی یک طرفہ ٹکراتا ہے، اپنے منصب کو چھوڑتا ہے اور جماعتی نظام پر حملہ کرتا ہے تو خدا نے وعدہ کیا ہے کہ اس نے اس کے لئے شعلہ بردار مقررفرمار رکھے ہیں، اسے جہنم تک پہنچا کے چھوڑیں گے،اس کو ضرور نا کام اور نامراد کر کے دکھائیں گے۔اس لئے آپ کو کیا خطرہ ہے کہ آپ اُٹھتے ہیں اور اس سے متصادم ہونے کے لئے اپنی راہیں چھوڑ دیتے ہیں، اپنے رستوں سے ہٹ جاتے ہیں۔ان امور پر کئی دفعہ میں خطبات دے چکا ہوں لیکن پھر بار بار یہ باتیں سامنے آتی ہیں کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں معمولی باتیں ہیں، کیا فرق پڑا اگر ہم نے چسکے سے فلاں کی بات سن لی۔ساتھ ساتھ اپنی دانست میں خلیفہ وقت کی حفاظت بھی کر لی کہہ دیا کہ ہاں ہاں ! کسی کی باتوں میں آ گیا ہوگا خود تو اپنی ذات میں شریف آدمی لگتا ہے ، خود تو جھوٹا اور غیر منصف نظر نہیں آتا اس لئے ضرور باتوں میں آیا ہوگا یعنی غیر منصف بھی قرار دے دیا اور بیوقوف بھی ساتھ ہی قرار دے دیا۔اچھا دفاع کیا خلیفہ وقت کا یعنی پہلے نے تو صرف ظالم کہا تھا آپ نے کہا ہاں ! ظالم صرف نہیں ہے احمق بھی بڑا سخت ہے اور