خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 617
خطبات طاہر جلد ۶ 617 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء بچیوں کو پردہ کراؤ، کہ جانے دو جی فلاں ناظر ہے اور فلاں فلاں ہے اس کی بچیاں تو بے پر دپھرتی ہیں۔یہ تو کچھ چیزیں جو سامنے نظر آنے والی ہیں کچھ چیزیں کثرت کے ساتھ ایسے جھوٹے الزام ہوتے ہیں جن کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہوا کرتی اور چونکہ سوسائٹی اس مرض کا شکار ہو جاتی ہے اس میں دفاع کی طاقت نہیں رہتی ہر نصیحت کرنے والے کی نصیحت بے کار چلی جاتی ہے، ہر انسان کے اخلاق خطرے میں پڑ جاتے ہیں وہ دن بدن ان جھوٹی خبروں کی وجہ سے خود بھی زیادہ ذلیل ہوتا چلا جاتا ہے اور زیادہ نیچے گرتا چلا جاتا ہے۔آج کل جن حالات میں سے جماعت گزررہی ہے ہم پر یقینا بعض نہایت خبیث فطرت لوگ جاسوسوں کے طور پر، نمائندوں کے طور پر مسلط کئے جاتے ہیں، کچھ پکڑے جاتے کچھ نہیں پکڑے جاتے مگر قرآن کریم نے جن باتوں کی طرف ہمیں مطلع فرما دیا ہے کھول کھول کر ان باتوں پر عمل کریں تو خواہ آپ کو کوئی منافق نظر آئے یا نہ آئے ، خواہ کوئی جاسوس ہو یا اتفاقا بات کرنے والا ہو یہ بیماری آپ کی سوسائٹی میں پھیل ہی نہیں سکتی۔چنانچہ اس کا سب سے اہم علاج یہ بتایا کہ جب تم کوئی بات سنتے ہو تمہارا حق نہیں ہے کہ اس بات کو آگے پہنچاؤ۔تمہارا فرض ہے کہ جو لوگ ان باتوں پر نگران مقرر ہیں ان تک اس بات کو پہنچاؤ۔یہ نہیں فرمایا کہ جس کے متعلق بات کی جاتی ہے اس کو پہنچاؤ، اس کے متعلق تو خود آنحضرت ﷺ منع فرما چکے ہیں کیسی عظیم الشان بات ہے۔فرمایا غیبت کو اس تک پہنچانے کا حق تمہارا نہیں ہے جس کو کہا جارہا ہے ورنہ پھر اور قسم کے فساد پھیلنے شروع ہو جائیں گے۔جن کام ہے اس قسم کے شریروں کو پکڑنے کا ان تک پہنچوان کو بتاؤ کہ یہ بات ہم نے سنی اور جس سے سن رہے ہو اس کو قرآن کریم کا یہ پیغام دو که لَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا تمہیں کیا حق ہے تم کسی کی بات ہم تک پہنچا رہے ہو، ہمارا تعلق کیا ہے اس بات سے؟ پس اگر یہ باتیں پھیلتی ہیں اور بعض امور کے متعلق مجھے اطلاع ہے کہ پھیلائے جار ہے ہیں تو ان کا پھیلنا بتارہا ہے کہ سوسائٹی میں کوئی بیماری آگئی ہے۔جو دفاع کی قوتیں قرآن کریم نے عطا فرمائی ہیں وہ یا موجود نہیں ہیں یا کمزور ہو چکی ہیں۔اگر ہر فر دسوسائٹی کا اپنے آپ کو اس بات کا پابند کر لے کہ بات کرنے والا خواہ کوئی بھی ہو، بڑا ہو یا چھوٹا ہو عزیز ہو یا دشمن ہو قطع نظر اس کے کہ بات