خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 618
خطبات طاہر جلد ۶ 618 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء کرنے والا کون ہے اگر ایسی بات کرے گا جس کا اس کے ساتھ تعلق نہیں ، جس کا میرے ساتھ تعلق نہیں جو ایک خبر اور ایک افواہ پھیلانے والی بات ہے تو میں قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق اسے افسران متعلقہ تک ضرور پہنچاؤں گا۔اگر ہر شخص یہ فیصلہ کرلے تو اس بیماری کے پھیلنے کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔جتنا مرضی کوئی خرچ کرے بعض منافقوں کو خریدنے پر جتنی چاہے افواہیں بنائے ہر قدم پر اس کے لئے روک بن جائے گی ، ہر قدم پر ایک Resistance قائم ہو جائے گی اور وہ چیز آگے بڑھ ہی نہیں سکتی۔جس طرح Non-Conductors ہوتے ہیں بعض مسالے بعض مادے ان کے اندر بجلی یا گرمی سرایت نہیں کر سکتی ، آگے بڑھ نہیں سکتی کیونکہ ان کا ہر ذرہ Resist کرتا ہے کہتا ہے نہیں ! مجھ سے آگے نہیں جاؤ گے تم سوائے اس کے کہ مجھے جلا دو۔چنانچہ جو گرمی کے Non-Conductors ہیں ان کے اندر ایک غیر شعوری قربانی کا ایک عجیب دلچسپ منظر دکھائی دیتا ہے۔ہر ذرہ جس کے اوپر گرمی حملہ کرتی ہے وہ آگے گویا سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ میں نے پچھلے ذرے تک اس کو نہیں پہنچنے دینا۔ہاں میں جل جاؤں گا تو پھر تمہیں حق ہے کہ تم پچھلے تک پہنچ جاؤ سے پہلے میں تمہیں نہیں جانے دوں گا۔تو وہ مومنوں کی سوسائٹی جس کو قرآن کریم نے باشعور طور پر افواہوں کے خلاف مستعد کر کے کھڑا کر دیا ہو اور ہر فرد کو پابند کر دیا ہو کہ جب تک تم تک بات پہنچے تو یہ فیصلہ کئے بغیر کہ یہ امن کی بات ہے یا خوف کی بات ہے، معصوم بات ہے یا شرارت والی بات ہے۔ایسی بات جو افواہ کا رنگ رکھتی ہے تمہارا فرض ہے کہ تم متعلقہ افراد تک اس کو پہنچا دو اور تمہارا فرض ہے کہ ایک شخص کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی خاطر اس بات کو تحقیق سے قبل متعلقہ افراد کو پہنچائے بغیر اس شخص کو نہ پہنچاؤ جس کو تم متعلق سمجھ رہے یا جس کے متعلق بات کی جارہی ہے اور افسران متعلقہ کو پہنچاؤ۔اگر یہ رسم شدت کے ساتھ قائم ہو جائے تو ایسی سوسائٹی بیماریوں کے پھیلنے سے بالکل بالا ہو جاتی ہے اور محفوظ ہو جاتی ہے۔پس اہل ربوہ کو خصوصیت کے ساتھ اور دنیا کی تمام جماعتوں کے افراد کو بالعموم یہ نصیحت کرتا ہوں کہ یہ عادت بنالیں اپنی اپنی ایسی عادت بنالیں جسے فطرت ثانیہ کہا جاتا ہے کیونکہ ایسے حالات آتے رہتے ہیں آج آپ امن میں ہو سکتے ہیں مگر وہ جراثیم موجود ہیں جو آپ کو نظر نہیں آرہے۔کل ہوسکتا ہے فضا بدل جائے۔اگر آج آپ کی عادتیں بگڑی ہوں گی اور آپ کو عادت ہوگی باتیں سُن کر