خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 558
خطبات طاہر جلد ۶ 558 خطبه جمعه ۲۱ را گست ۱۹۸۷ء کے نتیجے میں خرچ اگر 1/5 نہ سہی نصف بھی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑی چیز ہے اور جتنا بھی ہو بہر حال وہ عملاً آپ کا چندہ ہی شمار ہوگا۔دوسرے یہ کہ خدمت کرنے والوں کو ایک براہ راست سعادت نصیب ہوتی ہے۔خدا کے گھر کے بنانے میں حصہ لینا یہ ایسی عظیم الشان توفیق ہے کہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ انسان کے اندر ایک سعادت کی نئی روح پیدا فرما دیتا ہے گویا اسے ایک نئی زندگی ملی ہے اور خدا تعالیٰ کا خاص محبت اور پیار کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔اسی لئے عید کے خطبے میں میں نے اس طرف متوجہ کیا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ مل کر مسجد کے تعمیر کرنے کا واقعہ خدا تعالیٰ کو ایسا پیارا لگا کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اس کو قرآن کریم میں محفوظ فرما دیا اور ایسے پیار سے ذکر کیا کہ باپ معمار ہے اور بیٹا مزدور اور دونوں نبی۔اس سے بڑے اس زمانے میں کسی انسان کا تصور ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ باپ بھی نبی اور بیٹا بھی نبی اور خدا تعالیٰ نے ایک کو معمار بنایا ہوا ہے اور ایک کو مزدور اور وہ دونوں مل کر خدا کے گھر کی عمارت کھڑی کر رہے ہیں۔تو معماری کا کام دنیا کی نظر میں خواہ کچھ بھی حیثیت رکھتا ہو، جب اس کا مسجد سے تعلق پیدا ہو جاتا ہے تو دنیا کا عظیم ترین کام بن جاتا ہے۔ایسا کام جس پر بعد میں قومیں اور آنے والی نسلیں فخر کرتی ہیں۔پس حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا معماری کا جب یہ واقعہ آپ پڑھتے ہیں تو کس قدردل میں رشک پیدا ہوتا ہے، کس قدر انسان درود بھیجتا ہے ان پر کہ کیا شان تھی، کیسے عظیم الشان باپ بیٹا تھے، کس پیار اور محبت سے خدا کا گھر بنارہے تھے، اللہ کی رضا کی آنکھیں ان پر پڑ رہی تھیں اور ہمیشہ کے لئے اس خدمت کو محفوظ کر دیا۔ورنہ دنیا میں بعض قو میں ہیں جو تعمیر کے کام میں اپنی عمریں ضائع کر دیتی ہیں۔بعض ایسی غلام قومیں تھیں جن کو بڑی بڑی عمارات کے لئے زنجیروں میں باندھ کر ان سے غیر معمولی محنتیں لی گئیں، نسلاً بعد نسل وہ لوگ قیدوں میں بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرتے رہے۔ایسی عمارتیں جن کو بعض دفعہ سوسوسال سے زائد عرصہ مکمل ہونے میں لگا ہے۔تو جسمانی محنت اور جسمانی کوشش کا جہاں تک تعلق ہے بہت ہی زیادہ محنتیں عمارتوں کے سلسلے میں کی گئیں ہیں اور ظاہری قربانی کو دیکھیں تو حضرت اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی قربانی اس کے مقابل پر جسمانی محنت کے لحاظ سے کوئی حیثیت نہیں رکھتی