خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 559 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 559

خطبات طاہر جلد ۶ 559 خطبه جمعه ۲۱ را گست ۱۹۸۷ء مگر چونکہ خدا کے گھر سے وابستہ ہوئی تھی اس لئے اس کی عظمت اور شان اتنی بلند ہوگئی کہ ہمالہ کی چوٹیوں سے بھی بالا ہے، آسمان کے کنگروں سے لگی بیٹھی ہے عظمت اس کی۔اس لئے آپ کے لئے بھی ایک سنت جاریہ ہے۔آپ کی مسجد سے محبت کے نتیجے میں ، خدا کا گھر سمجھتے ہوئے ، اس کی تعمیر میں جو حصہ لیں گے یا اس کی صفائی میں کبھی حصہ لیں ، اس کے ٹھیک ٹھاک کرنے میں حصہ لیں۔یا درکھیں کہ ایک ایسی خدمت ہے جس کو خدا بہت ہی پیار اور اعزاز کے ساتھ دیکھتا ہے تو اللہ کرے اس کی بھی آپ کو تو فیق ملے۔جس کے پاس جو کچھ بھی ہے وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرہ: ۳) کا نظارہ دکھائے اور دشمن کو یہ بتا دے کہ ہم ہارنے والی قوم نہیں ہیں۔ناممکن ہے ان کی ساری ذلیل ترین کوششیں کتنی بھی بڑی طاقتور ہو کر ظاہر ہوں ،تب بھی وہ ہمیں نا کام نہیں بنا سکتیں ان کی ہر دشمنی ہمارے لئے ماں کے دودھ بن جایا کریں گی جب ہمارے جسم میں داخل ہو گی اور ہم کمزور ہونے کی بجائے ان زہروں سے مزید طاقت پائیں گے، مزید عظمت پائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اسی شان کے ساتھ زندہ رکھے۔زندگی کی یہی شان ہے اس کے بغیر تو زندگی بے معنی ہے۔مرد مومن اور مرد صادق کی طرح جو تو میں زندہ رہتی ہیں وہی زندہ رہنے کی اہل ہیں باقی تو فضول جھگڑے ہیں دنیا کے جن کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: جمعہ کے بعد نماز عصر جمع ہوں گی اور مسافر دوگانہ پڑھیں گے اور مقامی دوست غالبا ایک ہی ہیں یا دو ہوں گے۔وہ اپنی نماز پوری کر لیں عصر کی۔باقی دوسرا اعلان یہ ہے کہ نماز عصر کے معابعد دومرحومین کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔ایک ہمارے سلسلے کے مخلص واقف زندگی دوست چوہدری انور حسن صاحب نائب وکیل التصنيف ربوہ دل کے حملے سے اچانک وفات پا گئے۔بڑا مخلص خاندان ہے اور سارے بھائی اللہ کے فضل سے سلسلے سے بہت ہی محبت رکھنے والے ہیں۔ان کے ایک پہلے بھائی بھی جو غالبا دل کے دورے سے وفات پاگئے تھے یا دل کا حملہ ہوا تھا مجھے صحیح نہیں یاد مگر بہر حال۔ان کو پہلے بھی ہو چکا ہے اس کے باوجود بڑی محنت اور محبت سے سلسلے کا کام کرتے رہے۔دوسرے دوست ہمارے مکرم ہارون اوپو کو صاحب آف غانا مغربی افریقہ ہیں، ان کے