خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 17
خطبات طاہر جلد ۶ 17 خطبہ جمعہ ۲/جنوری ۱۹۸۷ء نے چندے دینے شروع کئے اگر چہ تھوڑے سے اپنی غربت کے حالات کے مطابق لیکن دینے ضرور شروع کئے۔وقف جدید کو میں اس سال اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ ان کی ضرورتیں پورا کرنے کے لئے خواہ لاکھوں بھی خرچ کرنا پڑے ان کو خرچ کرنا چاہئے ، جائز ضرورتیں پوری کرنے کے لئے اور جس طرح پہلے ہم کرتے تھے ، قرض دیتے تھے تا کہ بھیک مانگنے کی عادت نہ پڑے۔عمومی طور پر قرض کا طریق ہی رکھیں ، سہولت دیں کہ جب خدا ان کو توفیق دے وہ اس کو واپس کریں۔لیکن جہاں انفرادی ضرورت ہے ایک احتیاج کی جس طرح کے دوسرے علاقوں میں قرض کی بجائے صدقات اور زکوۃ میں سے دیا جاتا ہے ان کا اپنا حق ہے ان کو ملنا چاہئے۔لیکن ساتھ ہی اس بنیادی نقطے کو نہیں بھولنا چاہئے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ان کو ضرور ڈالنی ہے۔اس کے بغیر ان کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا ، اس کے بغیر اسلام کا پورا وجود بنتا نہیں ہے۔جیسے ایک ٹانگ کے بغیر بھی انسان کہلا سکتا ہے مگر پورا وجود نہیں بنتا۔اسی طرح خدا کی راہ میں مالی قربانی کئے بغیر مومن کا وجود پورا بنتا ہی نہیں۔اس لئے ان پر رحم کریں اور حتی المقدور کوشش کریں کہ جتنے نومسلم پہلے آئے تھے وہ بھی اور جتنے نئے شامل ہیں وہ ضرور خدا کی راہ میں کچھ نہ کچھ دیں۔جب وقت آئے گا ان کی امداد بھی ہوگی لیکن امداد کے وقت بھی ان کو ایسا چسکا ڈال دینا چاہئے قربانی کا کہ اس امداد میں سے بھی وہ کچھ خدا کی راہ میں پیش کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔قادیان میں ایسے بڑے بڑے خوبصورت واقعات رونما ہوتے رہے ہیں کہ ایک غریب مہاجر جو خالصہ جماعت کے عطا کردہ چندے پر پل رہا تھا جب تحریکات کرتے تھے حضرت مصلح موعودؓ تو اسی چندے سے بچا کہ دیا کرتا تھا اسی عطیہ سے بچا کر دیا کرتا تھا۔ایک خاتون سے متعلق واقعہ پہلے بھی سنا چکا ہوں۔اس نے دو آنے پیش کئے ھدھی کی تحریک کے وقت ، اس حالت میں کہ آنسو جاری تھے آنکھ سے اور کہہ رہی تھی کہ یہ شلوار بھی جماعت کی ہے، یتیمیض بھی جماعت کی ہے، یہ دو پٹہ بھی جماعت کا ہے، میر اسب کچھ جماعت کا ہے یعنی جماعت نے مجھے دیا ہے اور یہ دو آنے جو میں پیش کر رہی ہوں یہ بھی جماعت نے مجھے دیئے تھے۔اس رنگ میں اس نے یہ قربانی کی کہ حضرت مصلح موعودؓ کے دل پر اس طرح ثبت ہو گیا اس کا یہ حسن کہ بار ہا اس