خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 119 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 119

خطبات طاہر جلد ۶ 119 خطبه جمعه ۲۰ / فروری ۱۹۸۷ء وہ جرات کے ساتھ عوام الناس میں اعلان کر سکیں کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہ عقیدہ ہے۔اسلام کے ساتھ وہ کچی اور مخلص ہے، کلمہ پڑھنے میں جتنا ایمان اور یقین جماعت احمد یہ رکھتی ہے کسی اور فرقے کو ایسا نصیب نہیں ہوگا، یہ ساری باتیں وہ جانتے ہیں لیکن اس کے باوجود جرات نہیں رکھتے۔تو جماعت احمدیہ کے لئے مسائل تو ہیں لیکن اللہ کی تقدیر نے ان مسائل سے جماعت احمدیہ کے بیچ کے نکل جانے کے لئے کچھ اور سامان پیدا کئے ہوئے ہیں اور وہ سامان یہی نفرتیں ہیں جو خود حکومت اپنے لئے پیدا کر رہی ہے وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ (البقرہ: ۲۵۶) کا اصول قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ اگر ہم بعض اسلام کے دشمنوں کو بعض دوسرے دشمنوں سے ٹکرانہ دیتے اور آپس میں یہ ایک دوسرے سے الجھ نہ جاتے یا دوسرے مذاہب کا ذکر بھی لیا جائے تو یہ آیت وسیع المعنی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی جگہ بھی مذہب کی حفاظت کے لئے ہم مذہب کے دشمنوں کے آپس میں نہ الجھا دیتے تو نتیجہ یہ نکلتا کہ نہ کہیں مساجد باقی رہتیں، نہ گر جا گھر باقی رہتے نہ ٹیمپلز (Temples) کہیں دکھائی دیتے۔عیسائیوں کے معاہد بھی تباہ ہو جاتے اور یہودیوں کے معابد بھی تباہ ہو جاتے اور دوسرے مذاہب کے معاہد بھی تباہ ہو جاتے۔تو جماعت احمدیہ کو جو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایک نہایت ہی شدید ابتلاء سے محفوظ رکھ رہا ہے تو وہ اس کے پیچھے خدا تعالیٰ کی یہ دائگی ابدی حکمتیں کارفرما ہیں۔اس لئے ویسا ہی نظارہ ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ ایسے موقع پر بچالے گیا کہ جب کے لہریں پھٹ گئیں تھیں اور فرعون اس وقت اس علاقے سے گزرا جب لہروں کے ملنے کا وقت آ گیا تھا۔تو خدا کی یہ عمومی تقدیر اس طرح بھی کام کیا کرتی ہے۔بعض دفعہ قوم کا پھٹنا سچائی کی حفاظت کے لئے ممد اور مفید ثابت ہو جاتا ہے اور پھر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ نفرتوں کا پیمانہ اتنا بلند ہو جاتا ہے، اتنا بھر جاتا ہے کہ وہ پھٹے ہوئے وجود اس بات پر ملتے ہیں کہ جس سے نفرت ہے اس کو مٹا ڈالا جائے اور وہاں جب مخالف لہریں اکٹھی ہوتی ہیں تو پھر خدا تعالیٰ کی تقدیر سمندر میں غرق کرنے والی تقدیر بھی ظاہر ہوتی ہے۔تو جب آپ پرانے واقعات پڑھتے ہیں قرآن کریم میں تو یہ نہ سمجھا کریں کے یہ واقعات محض کہانیوں کے طور پر ہیں نہ یہ خیال کیا کریں کہ یہ واقعات بعینہ اسی طرح آئندہ ہونے والے