خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 94
خطبات طاہر جلد ۶ 94 خطبہ جمعہ ۶ / فروری ۱۹۸۷ء ویزوں کا بھی خود انتظام کرو۔لٹریچر اور رہنمائی کا جہاں تک تعلق ہے وہ تحریک جدید سے وہ حاصل کریں اور کہاں جا کہ بیٹھنا ہے یہ بھی تحریک جدید ہی ان کی رہنمائی کرے اور پھر جا کے وہاں بیٹھ جائیں، دھونی رمالیں ان درویشوں کی طرح جو پہلے بھی خدا کی راہ میں نکل کے ملک فتح کرتے رہے ہیں۔تو وہاں جا کے اپنا اور اپنے ملک کا نام ہمیشہ کے لئے ثبت کر دیں۔دنیا کی قوموں سے تو ہمارا مقابلہ نہیں ہو سکتا مادی ترقیات میں لیکن خدا نے جس میدان کی چوٹیاں فتح کرنے کے لئے ہمیں پیدا کیا ہے وہ بلند تر چوٹیاں ہیں اور بہت ہی عظیم الشان چوٹیاں ہیں۔ہمالہ فتح کرنے والوں کے نام تو ضرور ثبت ہوئے وہاں لیکن آئندہ نسلیں جس شان کے ساتھ ان لوگوں کو یاد کریں گی جنہوں نے خدا کی راہ میں ممالک فتح کئے ہیں ان کی شان کا وہ ہمالہ کی چوٹیاں فتح کرنے والا تو مقابلہ نہیں کر سکتا۔آج اس کی زیادہ عزت ہے، آج وہ زیادہ معروف ہے دنیا میں، آج اس کا نام دنیا کے ریڈیو، ٹیلی ویژن پر زیادہ احترام سے لیا جاتا ہے مگر لازما وہ وقت آئے گا جب کہ ارب ہا ارب دنیا کے انسان ان ناموں کو تو بھول چکے ہوں گے مگر درود اور سلام بھیجیں گے ان لوگوں پر محمد مصطفی ﷺے اور ان کے ان غلاموں پر جنہوں نے اسلام کے لئے نئے نئے ممالک فتح کئے ہیں۔بہت ہی عظیم الشان کام ہے اس کو اگر فوری طور پر تقسیم کر کے مشورے کے ساتھ یا Alternative مشورے بھی بھیج دیئے جائیں گے اگر آپ کے لئے یہ مناسب نہیں تو اور دوسری جگہ لے لیں اپنی پسند کی تو جنوبی امریکہ کے ہر ملک میں یہ عزم لے کر بڑھیں آگے کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اسلام کا اور اسلام کے احیائے نو کا پودا راسخ کر دینا ہے اور کوشش کرنی ہے کہ مضبوط جماعت مقامی دوستوں کی وہاں پیدا ہو جائے۔اتنی کثرت سے اب دنیا میں جماعتیں پھیل چکی ہیں اللہ کے فضل کے ساتھ اور ذرائع بھی ایسے وسعت پذیر ہیں کہ یہ کام اگر حکمت کے ساتھ تقسیم کیا جائے تو کچھ زیادہ بوجھ معلوم ہی نہیں ہو گا۔بہت آسانی کے ساتھ خدا کے فضل کے ساتھ یہ دوسرے کاموں کے ساتھ ضمنا ہونا شروع ہو جائے گا۔اس کے علاوہ کچھ انفرادی ذمہ داریاں ہیں جن کی طرف مجھے دوبارہ توجہ دلانا ہے۔انفرادی طور پر ہر شخص، ہر مومن ہر وقت کوشش میں رہتا ہے کہ میری کچھ کمزوریاں کم ہوں اور کچھ خوبیاں نئی مجھ میں پیدا ہو جائیں اور اس کے متعلق وہ پھر دعا بھی کرتا ہے، دعاؤں کے لئے لکھتا بھی ہے اور جب وہ