خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 722 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 722

خطبات طاہر جلد ۶ 722 خطبہ جمعہ ۶ نومبر ۱۹۸۷ء اور جلال پلیا جاتا ہے قوت ظاہر ہوتی ہے۔چنانچہ فرمایا مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ کہ محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھو کس شان کے لوگ ہیں کتنے دشمنوں کے مقابل پر سخت اور توانا اور قوی ہیں۔رُحَمَاء بَيْنَهُم لیکن آپس میں بہت محبت کرنے والے اور بہت رحم کرنے والے۔تَربُهُمُ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا کامل طور پر اللہ پر بھروسہ کرنے والے ان کو خدا کے حضور تم رکوع اور سجدے میں پڑے ہوئے دیکھو گے اور خدا ہی سے یہ فضل چاہتے ہیں اور اسی سے رحمت کی امید رکھتے ہیں۔سِيْمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ اور ان کے چہروں ان کی پیشانیوں پر ان کے سجدوں کے نتیجے میں بعض پاکیزہ علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔یہ ہے تو رات کا نقشہ اور اس کے ساتھ ہی فرمایا مَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ انجیل میں ان لوگوں کی مثال اور طریق سے دی گئی ہے گزرعٍ اَخْرَجَ شَطْئَے ایک ایسی کونپل کی طرح، نرم نازک کو نپل جو اپنی روئیدگی کو زمین سے نکالے فَازَرَہ پھر اسے ذرا مضبوط کرے فَاسْتَغْلَظ اور پھر وہ کونپل پھوٹ کر شاخ بنے اور شاخ مضبوط ہونی شروع ہو جائے فَاسْتَوى عَلى سُوقِ اور سُوقہ سے مراد وہ ڈنڈی ہے جو جب پودا بڑا ہو جاتا ہے تو ڈنڈی بن جاتا ہے۔تو وہ ڈنڈی مضبوط اور توانا ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے گویا خود اپنے ہی سہارے زندہ رہنے کی استطاعت اختیار کرلے اور اس کو غیر کے سہارے کی محتاجی نہ رہے۔ان معنوں میں جب فصل مضبوط ہوکر بڑی ہو جاتی ہے تو پھر اگر زمیندار کی طرف سے کچھ کمزوری بھی ہو جائے تب بھی وہ قائم رہتی ہے اور تب بھی وہ اپنا پھل دے دیا کرتی ہے تو ایسی صورت کو فاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ کہا جاتا ہے یہ نقشہ نرمی اور ملائمت کا نقشہ ہے اور پہلے نقشے سے مختلف ہے۔پہلے نقشے میں دشمن کے مقابل پر سخت قرار دیا گیا اور دشمن کے حال کا ذکر نہیں فرمایا گیا کیونکہ طاقتور کے مقابل پر دشمن کو کم غصہ آتا ہے۔دوسرے نقشے میں ایک کمزور کو نیل کے طور پر دکھایا گیا جس کا زندہ رہنا بھی ایک سوالیہ نشان کی صورت میں تھا ایک نرم و نازک کو نپل جو زمین سے پھوٹ رہی ہے پتا نہیں وہ باقی بھی رہتی ہے کہ نہیں اور اس کی کمزوری کے مقابل پر دشمن کو اس پر غصہ بہت آتا ہے یعنی جو پہلا نقشہ ہے اس میں طاقت اور شوکت ہے لیکن دشمن کے غصے کا ذکر نہیں۔دوسرے نقشے میں نرمی اور کمزوری ہے اور وہ رفتہ