خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 628
خطبات طاہر جلد ۶ 628 خطبه جمعه ۱/۲ کتوبر ۱۹۸۷ء جب میں شکا گو گیا تو شکاگو کے متعلق مجھے واشنگٹن میں خصوصیت کے ساتھ متنبہ کیا گیا کہ جہاں ہمارا مرکز ہے وہ نہایت خطرناک علاقہ ہے۔شکاگو دوحصوں میں تقسیم ہے بیچ میں سے ایک سڑک 80 East یا 80 West دونوں طرف جاتے ہوئے اس کا نام بدل جاتا ہے وہ گزرتی ہے شکا گوکو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ایک حصہ وہ ہے جس میں سیاہ فام امریکن بستے ہیں یعنی Africo-Americans۔ایک حصہ وہ ہے جس میں سفید فام امریکن بستے ہیں۔جو سیاہ فام امریکنوں کا علاقہ ہے ان دنوں میں خصوصیت کے ساتھ مشہور تھا کہ وہ سفید آدمی کو اپنے علاقے میں دیکھ ہی نہیں سکتے اور شاذ کے طور پر ان سے بیچ کو کوئی آدمی واپس آسکتا ہے اس لئے کوئی سفید آپ کو وہاں دکھائی نہیں دے گا اور ایسے غیر ملکی جو بیچ کے لوگ ہیں نہ پورے سفید نہ پورے کالے وہ بھی ان کے حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں اور اکثر ان میں سے وہاں جاتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتے۔اس لئے مجھے بتایا گیا کہ آپ نے اگر ٹھہر نا ہوتو کسی پاکستانی کے گھر ٹھہریں جو باہر کا رہنے والا ہو، باہر کے علاقے میں رہتا ہو۔مسجد میں جانا ہو تو دن کے وقت پوری حفاظت کے ساتھ ایک دو کاریں اور ساتھ لے کر چلیں اور شیشے ہر وقت چڑھائے رکھیں۔ایسا خوفناک نقشہ کھینچا گیا کہ میں نے پسند نہیں کیا کہ میں اپنی بیوی اور بچیوں کو بتاؤں ورنہ میرے لئے مشکل پڑ جاتی کیونکہ کرنا تو میں نے وہی تھا جو میں نے بہر حال کرنا تھا جس کے متعلق میں فیصلہ دل میں کر چکا تھا۔اس لئے میں نے وہاں پیغام بھجوایا کہ ہمارے صدر صاحب جو سیاہ فام امریکنوں میں سے تھے میں ان کے گھر ٹھہر نا چاہتا ہوں اس لئے وہ انتظام کر دیں۔بڑے محبت اور اخلاص سے انہوں نے اپنے گھر ہمارا انتظام کیا۔عین وہ علاقہ تھا جس کے متعلق سب سے زیادہ خوف کا اظہار کیا جاتا تھا۔شکا گو پہنچنے کا حال یہ تھا کہ خیال تو یہ تھا کہ ہم شام کے وقت کسی وقت پہنچیں گے لیکن بعض غلطیاں ایسی ہو گئیں تخمینے میں جس کے نتیجے میں رات کے ایک بجے ہم شکا گو پہنچے۔شکا گورات ایک بجے پہنچنے کے متعلق تو سارے امریکہ میں اس وقت یہی مشہور تھا کہ اگر کسی جگہ کھڑا کر کے آپ شیشہ اتار کر بات کریں اور پوچھیں کہ یہ کون سی جگہ ہے اور ان کو پتا لگ جائے کہ آپ غیر ملکی یا نا واقف ہیں تو لا زما وہاں یا قتل ہو جائیں گے یا زخمی ہوں گے اور آپ کا مال لوٹ لیا جائے گا۔اس لئے کسی سے کچھ پوچھنا خود کشی کے مترادف ہے۔علاقہ کہاں تھا مجھے اس کا کچھ علم نہیں تھا۔بہت وسیع شہر ہے