خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 453 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 453

خطبات طاہر جلد ۶ مقام پر فائز کئے جائیں گے۔453 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۸۷ء وہ وَالَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ فِي ايْتِنَا مُعْجِزِيْنَ یہ دو باتیں جو ان کی طرف سے کی گئی تھیں ان کا جواب تو آگیا، ہمارے اموال زیادہ ہیں ہماری اولا دزیادہ ہے۔ان کا کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچے گا یہ بیان فرما دیا گیا اور جہاں تک وَمَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ کا دعوی تھا اس کا جواب اس آیت میں ہے۔وَالَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ فِي ابْتِنَا مُعْجِزِينَ أو ليكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ۔۔لوگ جو ہماری آیات کو ناکام بنانے کے لئے دوڑے پھرتے ہیں۔ہر وقت مصروف ہیں کہ کسی وقت خدا تعالیٰ کی آیات کو ناکام بنادیں۔اُن کے متعلق تو قطعی بات ہے کہ وہ ضرور عذاب میں حاضر کئے جائیں گے۔یہ جو آخری حصہ ہے اس میں ساری قوم کے ساتھ عذاب کا وعدہ نہیں ہے یہ بہت ہی دلچسپ مضمون ہے لیکن اس کے متعلق میں بعد میں بیان کروں گا۔پہلے میں کچھ تھوڑی دیر کے لئے واپس ان آیات کی طرف لوٹتا ہوں جن کا میں نے ترجمہ آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ تمام مذہبی تاریخ میں ہمیشہ ہر قوم کی خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوؤں کی مخالفت کرنا اسی نفسیاتی بیماری کے نتیجے میں ہوتا ہے۔تکبر کو تبھی خدا تعالیٰ نے سب سے زیادہ ذلیل بدی شمار فرمایا ہے سب سے زیادہ قابل نفرت بدی جو قرار دی گئی ہے وہ تکبر ہے۔شیطانیت کی روح تکبر بیان فرمائی گئی۔قرآن کریم میں سب سے پہلا واقعہ جو نصیحت کے طور پر ہمارے سامنے پیش فرمایا گیا وہ ابلیس کا واقعہ ہے کہ کس طرح وہ ہمیشہ کے لئے مردود ہو گیا اور خدا کے قرب کی تمام را ہیں اس پر بند کر دی گئیں اور بظاہر اتنی بڑی سزا کے لئے جو اس کا جرم ہے وہ چھوٹا سا دکھائی دیتا ہے اس نے اتنا کہا تھا کہ میں نے آدم کو سجدہ نہیں کرنا میں تجھے کروں گا۔تیرا مطیع ہوں ، تو آقا ہے اس سے تو میں انکار ہی نہیں کرتا لیکن یہ حقیر سے مٹی سے بنایا ہوا وجود مجھ پر کیسے فضیلت پا گیا۔مجھے تو نے زیادہ طاقت کے مادے سے پیدا کیا ہے، زیادہ پر جلال مادے سے پیدا کیا ہے اور میں جلا دینے کی طاقت رکھتا ہوں۔یہ حقیر سی گیلی مٹی میرے سامنے کیا حیثیت رکھتی ہے۔تو چونکہ اس کا مادہ اور اس کی سرشت میں ہی کمزوری پائی جاتی ہے اس لئے غالب چیز کو ایک کمزور سی چیز کے سامنے نہیں جھکنا چاہئے یہ اس کا اعتراض تھا اور اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو ہمیشہ کے لئے مردود ہو گیا۔وجہ یہ ہے کہ پہلا گناہ ہی تکبر کا گناہ تھا اور تکبر بظاہر مخلوق کے ساتھ تھا لیکن فی الحقیقت