خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 396
خطبات طاہر جلد ۶ 396 خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۸۷ء ہوئے بہت سی بدیوں کی گٹھریاں اُٹھائے ہوئے ہیں اوپر سے ان کی ڈرگز (Drugs) اختیار کرنے لگ جائیں ، اوپر سے ان کی شراب پینے لگ جائیں، اوپر سے ان کی دوسری عادات کو اختیار کر جائیں کچھ بھی ہمارا باقی نہیں رہے گا۔کتنا ظالمانہ سودا ہو گا کہ نیک مقاصد کی خاطر ہجرت کر کے آئے ، دین کا نام لے کر گھروں سے نکلے اور اپنے عزیزوں کو پیچھے چھوڑا، پیچھے مائیں فوت ہو گئیں، پیچھے باپ جدائی میں مشکلات میں زندگی بسر کرتے کرتے رحلت کر گئے ، بعض بچے فوت ہو گئے لیکن واپس نہ جا سکے آپ لوگ اور یہاں آ کر کیا سودا کیا؟ سودا یہ کیا کہ اپنی برائیاں ان کو دینی شروع کر دیں اور ان کی برائیاں خود اختیار کرنے لگ گئے۔جب میں کہتا ہوں کہ برائیاں دینے لگ گئے تو یہ بھی واقعہ ہے کہ بدقسمتی سے بعض لوگ یہ بھی کرتے ہیں۔جب آج سے ایک لمبا عرصہ پہلے تقریبا انتیس سال پہلے جب میں انگلستان آیا تھا تو شاذ و نادر کے طور پر کوئی پولیس مین ایسا بیان کیا جاتا تھا یعنی یہ بھی نہیں کہ حقیقت میں صحیح تھی بات ، بیان کیا جاتا تھا کہ رشوت لے لیتا ہے اور یہ ایک حیرت انگیز بات سمجھی جاتی تھی لیکن اب ایسی باتیں عام ہو گئی ہیں۔اب ان کے ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں بھی یہ باتیں آرہی ہیں، اخبارات میں بھی اس کے چرچے ہوتے ہیں، پولیس کے اصلاحی کمیشن بھی بیٹھتے ہیں اور حیرت کی بات اور ظلم کی بات یہ ہے کہ اس کا آغاز Asians نے شروع کیا ہے۔اس زمانے میں کبھی کبھی میرے کان میں یہ بھنک پڑتی تھی اور بہت تکلیف پہنچتی تھی کہ بعض لوگ کہتے تھے کہ جی! ہم ان کو رشوت لینا سکھا رہے ہیں اور بڑے فخر سے بات کرتے تھے۔کہتے تھے کوئی فرق نہیں پڑتا ان کو ایک شراب کی بوتل دے دو تو یہ بھی ہماری طرح بات ماننے لگ جاتے ہیں۔انسانی فطرت کی کمزوریاں تو ہر جگہ ہیں۔آپ نے ایک اچھی قوم کو گندہ بنایا اور اس پر فخر محسوس کیا۔اسی طرح ممکن ہے کہ اور بھی بہت سی بدیاں مشرق نے ان لوگوں میں داخل کر دی ہوں تو ان کی بدیوں کے ڈھیر بھی بڑھنے شروع ہو گئے ، آپ کی بدیوں کے ڈھیر بھی بڑھنے شروع ہو گئے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا یہ فرمان پھر کیسے پورا نہ ہو گا کہ کشتی کے پیندے میں سوراخ تو ہو گیا ہے اس نے ڈوبنا ہی ڈوبنا ہے۔ایسی قومیں جن کی بدیاں بڑھنے لگ جاتی ہیں اور یہ عادت اب ان میں بھی آچکی ہے۔ایک دوسرے سے بدیاں سیکھنے لگ گئے ہیں۔امریکہ کا معاشرہ یورپ کو بدیاں سکھا رہا ہے، یورپ کا معاشرہ کچھ باتیں