خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 363

خطبات طاہر جلد ۶ 363 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء عموما میں نے دیکھا ہے کہ جو لین دین کے معاملے میں باہر گندے ہوتے ہیں وہ اپنے گھر اس بات کی اطلاع نہیں کرتے۔جب ان کو پکڑا جاتا ہے تو اُن کی بیوی اور بچے حیران ہو جاتے ہیں کہ اتنا نیک باپ اس کے خلاف جماعت ایکشن لے رہی ہے، اس کے خلاف فلاں نے مقدمہ کر دیا، اس بیچارے مظلوم کو گھسیٹ رہے ہیں کیونکہ باقی باتیں تو وہ نہ بھی چھپا سکے عموما اکثر مردا اپنی بددیانتی ضرور چھپا جاتے ہیں گھر سے اور وہ بتاتے ہی نہیں کہ وہ کس قسم کی Shady Deals کر رہے ہیں باہر ، کس قسم کے ان کے کمائی کے ذریعے ہیں۔جہاں تک ان کے بیوی اور بچوں کا تعلق ہے وہ تو ان کو بڑا ہی محنتی، پارسا ، نیک کمائی کرنے والا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔اس لئے یہ جہاد باہر سے کرنا پڑے گا۔سارے نظامِ جماعت کی ہر شاخ کو اس کے خلاف جہاد کرنا چاہئے۔لین دین کے معاملے میں جو شخص گندہ ہے، جو بے تکلفی سے کسی کا پیسہ کھا جاتا ہے شراکت کرتا ہے اس کو بڑے بڑے وعدے دیتا ہے اور پھر اس کے آغاز میں ہی اس کی نیت کے اندر بد دیانتی کا فتور داخل ہوتا ہے۔یہ خیال غلط ہے کہ بعد میں حالات اسے بدیانت بناتے ہیں۔ہمیشہ جب بھی شراکتوں میں بددیانتی ہوتی ہے آپ دیکھیں گے کہ کسی نہ کسی شخص کی نیت میں یہ فتور تھا۔شروع میں وہ نرم بن کے چلتا ہے جب موقع دیکھتا ہے آہستہ آہستہ اپنے پر پرزے پھیلانا شروع کر دیتا ہے اور بعض معصوم لوگوں کولوٹ لیتا ہے۔خاص طور پر وہ جو ہمارے باہر سے کمائی کر کے پاکستان جانے والے احمدی ہیں ان کو بہت اپنی فکر بھی کرنی چاہئے اس معاملے میں۔اکثر صورتوں میں بے چاروں نے بڑی محنت سے پیسہ کمایا ہوا ہے اور وہاں جائیں گے تو بعض لوگ بڑا نیکی کا لبادہ اوڑھ کر ان سے ملیں گے اور ان کو نیک مشورے دیں گے کہ فلاں کام میں بڑی برکت ہے اور بڑا فائدہ ہے کہو تو ہم تمہارے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں ہم تمہیں کروا دیتے ہیں یہ کام اور بہت ساری صورتوں میں ایسے بے چارے لوگ اپنی ساری عمر کی کمائی ایسے ظالموں کے ہاتھ میں گنوا دیتے ہیں۔بعد میں پھر خط لکھتے رہ جاتے ہیں کہ ہم تو ربوہ گئے تھے ہم سمجھے تھے یہاں سارے ہی پار سابستے ہیں۔ہم سے یہ ہو گیا۔ہم لاہور گئے تھے وہاں ایک آدمی تھا وہ جماعت کا ہی عہدہ دار ہم وہم بھی نہیں کر سکتے تھے سب کچھ اس کو دے دیا وہ سب کچھ کھا گیا وغیرہ وغیرہ۔یعنی نہ میرے ذہن میں اس وقت ربوہ کا کوئی شخص ہے نہ لا ہور کا یہ نہ سمجھیں یہ