خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 216

خطبات طاہر جلد ۶ 216 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء Surprise کہتے ہیں۔عام طور پر لوگوں کو جن سے پیار ہو ان کے لئے وہ اپنی محبت کے اظہار میں تعجب بھی شامل کرنا چاہتے ہیں اور تعجب کا عصر یعنی Surprise کا جز اگر شامل ہو جائے تو اس سے محبت کرنے والوں کو اور بھی زیادہ لطف آتا ہے اور جس کی خاطر ایک محبت کرنے والے نے ایک اچنبھے کی بات سوچی ہے کہ اچانک میں اس کو بتاؤں گا یا اچانک میں اس کو تحفہ دکھاؤں گا۔اس کے لئے بہت زیادہ لطف پیدا ہو جاتا ہے۔تو یہ کلام خالصہ ایک محبت سے گہرے رازوں سے واقف ہستی کا کلام تھا اور یہ کلام ایسی ہستی پر نازل ہو رہا تھا جو محبت کے معاملے میں سب سے زیادہ آشنا تھی۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اس مخفی پیار کے ہر پہلو کو پایا اور ایک صاحب تجربہ کے طور پر آپ کی زندگی میں یہ تمام لمحات، یہ تمام واقعات، یہ تمام تعجب انگیز پیار کے اظہار اس طرح جاری ہوئے کہ آپ کی زندگی کا ایک جز ولا ینفک بن گئے تھے۔ما اُخْفِى لَهُمْ میں ہر قسم کی محبت آجاتی ہے۔ایک خاوند کو بیوی سے جو محبت ہے اس کا لطف بھی اس میں آجاتا ہے اور ایک دوست کو دوست سے جو محبت ہے اس کا لطف بھی آجاتا ہے۔ایک ماں کو جو بچوں سے پیار ہے اس کا لطف بھی آجاتا ہے کیونکہ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ کا پہلو انسان کی محبت کے ہر پہلو پر جاری ہے۔اس کا کوئی بھی آپ تصور باندھیں اس میں، کسی تعلق کا تصور باندھیں اس میں آپ کو مآ أُخْفِى لَهُمُ کا مضمون ضرور نظر آئے گا۔انسان یہ چاہتا ہے کہ میں چھپا کر رکھوں۔مائیں بعض دفعہ اپنے بچوں کے لئے چیزیں چھپا کر رکھ لیتی ہیں اور بظاہر وہ اس طرح اپنا رویہ رکھتی ہیں کہ گویا کچھ نہیں کھانے کے لئے۔پھر اچانک جب وہ نکال کر دکھاتی ہیں کہ یہ ہے تمہارے لئے تو بچے نہال ہو جاتے ہیں، الٹ الٹ کر ماں پر گرتے ہیں کہ آج تو تم نے حد کر دی، کمال ہو گیا ہماری مرضی کی چیز تم نے چھپا کر رکھی ہوئی تھی۔دوست دوستوں کے لئے Surprise دیتے ہیں۔کتنا حیرت انگیز کلام ہے جو دنیا کی کسی کتاب میں، کسی مذہب میں آپ کو دکھائی نہیں دیتا۔آپ تلاش کر کے دیکھ لیں۔خدا کہتا ہے کہ میں بندوں کے لئے پیار کے Surprise رکھتا ہوں۔زندگی میں ہی اس کے لئے مخفی رکھی ہوتی ہے۔قدم قدم پر اس کے پیار کے نمونے اس طرح ظاہر ہوتے چلے جاتے ہیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے اور یہ جو آپ کے تجربوں میں بات آئی ہے یہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت کے طفیل ہے۔اس طرف لوگوں کا دھیان نہیں جاتا کیونکہ قرآن