خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 202

خطبات طاہر جلد ۶ 202 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء حال میں گزارنی ہے اس سے پھر وہ سوچتے ہیں کہ کیوں نہ پھر عبادت کی جائے۔تو کہتے ہیں:۔دم واپسیں بر سر راه ہے عزیزو! اب اللہ ہی اللہ ہے یعنی خدا صرف واپسی کے لئے رہ گیا ہے اس سے پہلے خدا کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔تو آنحضرت ﷺ اسی مضمون کو کھولتے ہیں فرماتے ہیں دم واپسیس کا اللہ تو کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔آغاز سفر کا خدا ہے اگر تم اس کو پکڑو گے تو وہ تمہیں پھر واپسی کے وقت تک کبھی نہیں چھوڑے گا۔پھر تمہارا دم واپسیں مقبول ہو گا۔اس لئے وہ جو جوانی میں خدا کی عبادت کرتے ہیں اور وفا کے ساتھ اس عبادت پہ قائم رہتے ہیں دم واپسیں تو کیا خدا قیامت کے دن تک ان کو یاد رکھتا ہے اور جب کوئی سایہ اور میسر نہیں آئے گا اس وقت خدا کا سایہ ان کو میسر آئے گا۔یہ ہے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا انداز نصیحت جس کے ساتھ گوندھ گوندھ کے گھونٹ گھونٹ، جرعہ جرعہ اللہ تعالیٰ کی محبت پلائے چلے جاتے ہیں۔فرمایا تیسرے وہ آدمی جس کا دل مسجدوں کے ساتھ لگا ہوا ہے اور مسجدوں کے ساتھ دل لگے ہوئے کی آپ حدیثوں میں مطالعہ کریں تو آنحضرت ﷺ کے متعلق ہی روائتیں آتی ہیں۔صلى الله بسا اوقات آنحضرت ﷺ اپنا کر فرماتے ہیں اور نام نہیں لے رہے ہوتے اور بعض جگہ پھر جس طرح کہتے ہیں نا کوئی پکڑا جاتا ہے اس طرح پیار اور عشق کے انداز میں بھی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا یہ انکسار، یہ چھپنا بھی پکڑا جاتا ہے۔چنانچہ ہمیں کثرت سے ایسی احادیث ملتی ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کے متعلق ذکر ملتا ہے کہ آپ کا دل ہر وقت مسجد میں اٹکا رہتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی گر آپ سے سیکھا اور آپ کے متعلق بھی یہ پتا چلتا ہے بچپن ہی سے مسجد سے ایسا تعلق تھا کہ بسا اوقات اسی صف پہ خدا کی عبادت کرتے کرتے نیند آگئی اور مسجد کا خادم صف پیٹتا تھا تو وہ آپ کو بھی بعض دفعہ لپیٹ دیا کرتا تھا بیچ میں۔تو عبادت کے بعد مسجد کا ذکر کیوں ہے؟ کیا عبادت کا ذکر کافی نہیں تھا جوانی کی عبادت کا ؟ امر واقعہ یہ ہے کہ عبادت کی حفاظت کے لئے مسجد ضروری ہے اور مسجدوں کی آبادی نہایت بہت ہی بڑا مقام رکھتی ہے عبادتوں کے قیام کے لئے۔اگر مساجد نہ ہوتی تو کبھی کی مسلمانوں سے عبادت مٹ چکی ہوتی۔