خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 201

خطبات طاہر جلد ۶ 201 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء ہیں، صاحب تجر بہ لوگوں سے باتیں سنی ہوئی ہیں۔بعض لوگ اس کے نتیجے میں مجلسیں سجاتے ہیں اور بہت پر لطف مجلسیں سجاتے ہیں لیکن اگر آپ غور کریں یا خدا بہتر جانتا ہے ان کے دل کا حال، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہوگا کہ ان کی اکثر باتیں کھوکھلی اور دوسروں کی سنی ہوئی باتیں ہیں اور تجربے کے طور پر ان کو ان میں سے کچھ بھی نصیب نہیں ہوا۔اس لئے یہ ایک بہت ہی نمایاں فرق ہے جو رسول اکرم ﷺ کی احادیث اور آپ کے کلام کے سنتے ہوئے آپ کے پیش نظر رہنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں اس کا لطف سماعی نہیں ہونا چاہئے ، اس کا لطف صرف ذہنی نہیں ہونا چاہئے ، اس کے اندر ڈوب کر آپ کے تجربے سے لذت پانی چاہئے اور اس تجربے کی لگن دل میں پیدا ہونی چاہئے تا کہ ہم بھی ان رستوں پر چلیں جن رستوں کی یہ خوبصورت فضا ہے، ہم بھی اس سمندر میں غوطہ لگائیں جس سمندر میں غوطہ لگا کر خدا کی محبت کا لطف آتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں آنحضرت ﷺ کے ارشادات پر غور کرتے رہنا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں جس دن اللہ تعالیٰ کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا اس دن اللہ تعالی سات آدمیوں کو اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا۔اول امامِ عادل، یہ وہ شخص جسے خدا نے امام بنایا ہو یاد نیا کی بھی سرداری دی ہو ، وہ عدل سے کام لے۔دوسرے وہ نو جوان جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے جوانی بسر کی ہو۔اب ان سب جوڑوں میں آپ کو ایک خاص حکمت کی بات نظر آئے گی یہ کوئی اتفاق جوڑ نہیں بنائے گئے۔اس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کا ہر کلام اور آپ کے کلام کا ہر حصہ گہری حکمتوں پر مبنی ہوتا تھا۔امام جو بن جائے ، حاکم بن جائے وہ اگر عدل نہ کرے تو اس کو کوئی دنیا میں پوچھنے والا نہیں ہوتا۔اس لئے وہ شخص اگر عدل کرتا ہے جس کے اوپر پوچھنے والا ہو تو اس کے عدل کا وہ مقام نہیں ہے، اس کے عدل کا وہ مرتبہ نہیں لیکن جب وہ شخص عدل کرے جس سے اوپر انسانوں میں سے کوئی اس سے پوچھنے والا نہ ہو تو اس کے عدل کا ایک خاص مقام اللہ کی نظر میں پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس سے خاص رحمت کا سلوک فرمائے گا یہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا پیغام ہے اور پھر اکثر بوڑھوں کو آپ عبادت کرتے ہوئے دیکھیں گے کیونکہ دنیا کی اکثر لذتیں ویسے ہی ختم ہو چکی ہوتی ہیں اور خالی بیٹھ کے جو بور ہونا ہے ،اپنی زندگی بڑے کڑے