خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 878
خطبات طاہر جلد ۶ 878 خطبه جمعه ۲۵ / دسمبر ۱۹۸۷ء قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے وہ متوازن شخصیت ہے۔امت محمدیہ کو بھی اُمَّةً وَسَطًا (البقرہ :۱۴۴) قرار دیا گیا ہے آنحضرت ﷺ کو بھی اک انتہائی کامل طور پر متوازن وجود کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے۔قیم ہیں لَا عِوَجَ لَئے (طہ: ۱۰۹ ) ان میں کوئی کمی بیشی کسی طرف سے بھی نہیں ہیں کوئی ٹیڑھا پن نہیں ہے۔تو پوری مکمل مومن کی شکل کے ساتھ توازن کا بہت گہرا تعلق ہے۔بعض خوبیوں میں بہت آگے بڑھ جانا اچھی بات ہے لیکن یہ مطلب نہیں کہ بعض دوسری خوبیوں کا خون چوس کر بعض خوبیوں میں آگے بڑھنا۔ہر انسان کے اپنے اپنے رجحان ہیں اسی طرح امرائے ضلع میں میں نے دیکھا ہے کہ ان کے اپنے اپنے رجحان میں بعضوں کو تبلیغ کا بڑا شوق ہے ، بعضوں کو تربیت کا ملکہ دیا گیا ہے، بعضوں کو دوسری بعض خوبیاں عطا فرمائی گئی ہیں ان میں وہ نمایاں امتیاز رکھتے ہیں لیکن نمایاں امتیاز کا یہ مطلب اسلامی تعریف میں بہر حال نہیں ہے کہ باقی چیزوں میں تم منفی ہو جاؤ اور پھر نمایاں امتیاز حاصل کرو۔دنیا کی تعریف میں بھی نہیں کیونکہ ایسے طالب علم کو فیل کہا جاتا ہے۔یہ نہیں کہہ سکتا وہ کہ ایک میں میں نے فرسٹ کلاس فرسٹ لی ہے اس لئے مجھ پر کسی قسم کی قدغن نہ لگائی جائے کہ میں پانچ مضمونوں میں فیل ہو گیا ہوں۔جو کم سے کم معیار سے نیچے اترتا ہے وہ نا کاموں میں داخل ہو جاتا ہے اس لئے کم سے کم اتنا توازن تو ضرور رکھنا چاہئے کہ کسی جگہ آپ ترقی معکوس نہ دکھا ئیں، واپسی کی طرف نہ لوٹنے والے ہوں۔تو امید ہے ان چیزوں کی طرف با قاعدہ دانشوری کے ساتھ نظر رکھی جائے گی اور اس کا طریق یہی ہے کہ مجلس عاملہ کے دستور مکمل ہونے چاہئیں۔ان میں بعض جائزے وقتا فوقتا پیش ہوتے رہنے چاہئیں۔جن لوگوں کو اس قسم کے کام کی عادت ہو جیسے سائنسدان کرتے ہیں،حساب دان کرتے ہیں ان کی اپنی کمزوریوں پر پردے پڑ جاتے ہیں کیونکہ اجتماعی طاقت کے ساتھ ان کی شخصیت کو بھی طاقت ملتی ہے۔جن کے اندر اپنی خوبیاں نمایاں ہوں لیکن وہ حسابی رنگ میں ،سائنسی رنگ میں کام کرنے کے عادی نہ ہوں ان کی کمزوریاں باقی جماعت کی کمزوریاں بن جاتی ہیں۔اس لئے آپ کو ایک دانشور باشعور جماعت کی طرح کام کرنا چاہئے اور ایسا نظام بنانا چاہئے جس میں خلاء کے احتمالات باقی نہ رہیں۔ہر شعبہ زندگی جس میں ایک منصوبہ جماعت کے سامنے پیش کیا گیا ہے یا جماعت کے مستقل منصوبوں میں داخل ہو چکا ہے ہر تحریک جو کی جاتی ہے اس کے تقاضوں سے کس