خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 874 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 874

خطبات طاہر جلد ۶ 874 خطبه جمعه ۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء بعض دفعہ لکھواتے نہیں لیکن ان کے ذہن میں ایک معین رقم ہوتی ہے کہ ہم نے ضرور خدا کے حضور پیش کرنی ہے اور سال کے ختم ہونے سے پہلے پہلے وہ ضرور پیش کرتے ہیں۔اس لئے وعدوں سے عموما وصولیاں بڑھ جایا کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ جماعت کی وصولی الا ماشاء اللہ ہر سال وعدوں سے آگے بڑھتی رہی ہے اور بجٹ سے آگے بڑھتی رہی ہے۔تو اس پہلو سے بڑے امید افزا آپ ہیں۔جہاں تک وقف جدید کی کوششوں کا تعلق ہے اور خدمت کا تعلق ہے اس پہلو سے بھی تحریک اپنے فرائض منصبی اچھی طرح ادا کر رہی ہے۔بڑے سخت مخالف حالات میں بھی اللہ تعالیٰ اس انجمن کو تو فیق عطا فرما رہا ہے اور اس کی تفاصیل کے بیان کی اس وقت یہاں ضرورت نہیں ہے۔جلسہ سالانہ پر بسا اوقات بیان ہوتی رہی ہیں یہ باتیں لیکن اب کچھ عرصہ سے میں نے تفصیل سے ان خدمات کا ذکر صدرانجمن کی اور وقف جدید کی اور دیگر بعض مجالس کی پاکستان کی خدمات کا ذکر کرنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس سے بعض لوگوں کو بہت ہی زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ وہ جل بھن جاتے ہیں اور پھر کوشش کرتے ہیں کہ ہر نیک کام کی کوشش کی راہ میں وہ روڑے اٹکائیں اور نیک راہ پر چلنے والوں پر روڑے برسائیں۔تو بے وجہ بیچارے عام انسانوں کو تکلیف پہنچانا خواہ خواہ اور اس کے نتیجے میں بعض معصوموں کی تکلیف کا موجب بنا یہ کوئی حکمت کی بات نہیں ہے۔اس لئے جہاں جہاں بعض بے بسی کے سے حالات ہیں وہاں میں عمداً ان خدا تعالیٰ کے فضلوں کا بہت تفصیل سے ذکر نہیں کرتا بلکہ عموما خدا کے فضلوں کا ذکر کر دیتا ہوں۔عمومی فضل تو ہوتے ہی رہیں گے وہ تو تکلیف ہو کسی کو نہ ہو وہ روک ہی نہیں سکتا لیکن تفصیل کے ساتھ فلاں جگہ یہ ہورہا ہے اور فلاں جگہ یہ ہو رہا ہے یہ بتانے سے بعض دفعہ پھر نقصانات کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں یعنی ایسے نقصان کے خدشات جن کو ٹالا جاسکتا ہے۔نقصان کی کوشش تو بہر حال جماعت کو پہنچانے کی کی جارہی ہے مسلسل کی جارہی ہے لیکن اس کوشش میں ہم ان کے مدد گار نہیں بننا چاہتے یوں خلاصہ سمجھ لیجئے اور جہاں تک عمومی کوشش کا تعلق ہے اس کے باوجود بڑھ رہے ہیں خدا کا وعدہ ہے بڑھتے رہیں گے، خدا کا وعدہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ ترقی کرنی ہے اور دشمن نے ہمیشہ ناکام رہتا ہے اس میں تو پھر بھی کوئی تبدیلی نہیں، نہ میرے تفصیل سے بیان کرنے سے تبدیلی پیدا ہو گی لیکن آنحضرت ﷺ کی سنت ہے جب خاص حالات ہوں مقابلے کے تو احتیاطی کاروائیاں اور حکمت کے تقاضے پورے کرنے ضروری ہوا کرتے ہیں۔