خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 868
خطبات طاہر جلد ۶ 868 خطبه جمعه ۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء آئے پھر سات سال بہت سختی کے آئے پھر خدا تعالیٰ نے اس سختی کو بدل دیا اور ایک آسانی کا ایسا سال پیدا فرمایا جس نے گزشتہ سارے غم بھلا دئیے۔اس وقت برے سالوں کے وقت مومن اور غیر مومن میں ایک فرق دکھایا گیا۔برے سال آنے سے پہلے ہی خدا کے ایک مومن بندے کو، خدا کے ایک مقدس بندے کو یہ بتا دیا گیا کہ برے سالوں کو مومنوں پر غلبہ عطا نہیں کیا جاتا بلکہ مومنوں کی برکت سے برے سال اچھے سالوں میں تبدیل کئے جاتے ہیں۔اس لئے بجائے اس کے کہ تم اس رؤیا سے ڈرواور یہ محسوس کرو کہ بہت سخت دن آنے والے ہیں تم اپنی کمر ہمت کو کسو کیونکہ تمہارے ذریعے دنیا کے حالات تبدیل کئے جائیں گے اور ڈوبتوں کو بچایا جائے گا اور فاقہ کشوں کے رزق کا سامان کیا جائے گا۔چنانچہ اگر حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نہ ہوتے یا خدا آپ کو اس غرض سے استعمال نہ فرماتا تو وہ بختی کے سال تمام Egypt یا مصر اور اس کے گردو پیش میں جہاں مصر کا قبضہ تھا ان کے لئے انتہائی ہلاکت کے سال بن جاتے۔یہی خدا کا سلوک ہر حال میں، ہر تبدیلی میں مومن کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔دن بھی آتا ہے مومن پر اور رات بھی آتی ہے لیکن راتیں اس کے پاؤں روک نہیں لیا کرتیں۔ہاں رفتار میں ضرور فرق پڑ جاتا ہے لیکن وہ رفتار رک کر ایک مقام پر کھڑی نہیں ہو جایا کرتی یا واپس نہیں لوٹتی اور یہ نمایاں فرق ہے جو قرآن کریم نے خوب اچھی طرح مومن اور منافق ، مومن اور کا فر میں ظاہر فرما دیا۔جہاں تک منافقین کا تعلق ہے منافق کا لفظ قرآنی محاورے کے مطابق ان معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے جسے ہم اردو میں منافق کہتے ہیں اور کافروں کے لئے بھی لفظ منافق استعمال ہوا ہے کیونکہ منافق در حقیقت کا فر ہوتا ہے اور ظاہر امسلمان بن رہا ہوتا ہے۔تو فرمایا منافقوں کے متعلق کہ إِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا ( البقرہ:۲۱) کہ مومن کا سفر تو دن کو بھی جاری رہتا ہے اور رات کو بھی جاری رہتا ہے لیکن منافقوں کا یہ حال ہے کہ جب رات آتی ہے تو رک جاتے ہیں جب روشنی ہوتی ہے تو چل پڑتے ہیں یعنی وہ وقت کے غلام ہوا کرتے ہیں وقت کے آقا نہیں ہوا کرتے۔چنانچہ مومن کو خدا تعالیٰ ابوالوقت وقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور کافر کو ابن الوقت کے وقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔مومن اپنے وقت کو اپنی غلامی میں تبدیل کرتا ہے اس سے فائدے اٹھاتا ہے اور کا فروقت کے دھارے پر خود بخود بہتا چلا جاتا ہے اس کے مقدر میں وقت کے دھارے