خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 867 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 867

خطبات طاہر جلد ۶ 867 خطبہ جمعہ ۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء کہ سکتا ہوں کہ جماعت اسی نوع کی جماعت ہے جس کا قرآن کریم نے رجائی کے لفظ سے اظہار فرمایا گیا ہے رِجَالُ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ (النور: ۳۸)۔یہ وہ مرد ہیں جو کسی چیز کے نتیجے میں بھی خدا کے ذکر سے غافل نہیں ہوتا۔مصروفیتیں ان کو بھی ہیں دنیا کی لیکن مصروفیتیں ان پر غالب نہیں آتیں۔دوسری بھی کئی جگہوں پر قرآن کریم نے مومنوں کی شان رِجَالُ لفظ کے نیچے بیان فرمائی ہے۔پس جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے رِجَالی کی جماعت ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے۔پس وہ لوگ جو غم کا اظہار کرتے ہیں ان میں سے بعض اگر غم سے مغلوب ہیں یا طبیعت میں کمزوری پیدا ہوتی ہے تو میں ان کو متنبہ کرتا ہوں کہ ہرگز یہ مومن کی شان نہیں ہے۔مومن کی آنکھوں کا پانی تو فولاد کی آب کی طرح ہوا کرتا ہے۔وہ کیچڑ پر برس کر کیچڑ کو نرم کرنے کی طرح نہیں بلکہ وہ آب جسے فولاد کی آب کہا جاتا ہے اسے اور زیادہ قوت بخشنے والا پانی ہوا کرتا ہے اور زیادہ پہلے کی نسبت اس میں طاقت اور مقابلے کی شدت پیدا کر دیتا ہے۔جہاں تک وقت کے بدلنے کا تعلق ہے سالوں کے بدلنے کا تعلق ہے یہ تو ایک جاری وساری نظام ہے اور اگر چہ ہم نے مختلف جگہوں پر سنگ ہائے میل لگا دئے ہیں جو خدا تعالیٰ نے ہماری خاطر یہ سنگ ہائے میل لگائے ہیں تا کہ ہم اپنے اوقات کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے اپنے حالات کا تقابلی جائزہ لیتے رہیں، یہ معلوم کرتے رہیں کہ ہم کل کہاں تھے آج کہاں ہیں۔اسی مقصد سے دنیا کی سڑکوں پر بھی میل لگائے جاتے ہیں، اسی مقصد سے قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے وقت کی راہ پر بھی میں لگادئے ہیں اور یہ علامتیں کھڑی کر دی ہیں جس کو ہم سال کا آنا اور جانا کہتے ہیں۔مہینوں کا گزرنا کہتے ہیں یا ہفتوں کا یا روز و شب کا ادلنا بدلنا کہتے ہیں۔پس اس لحاظ سے تو اگر چہ یہ سال ختم ہو رہا ہے لیکن سفر تو بلا روک ٹوک جاری رہے گا اور یہ حد بندیاں جس مقصد کی خاطر لگائی گئی ہیں اس کے پیش نظر ہمیں جائزہ ضرور لینا چاہئے کس حد تک ہمارا سال گز را اور کس حد تک ہم اگلے سال میں داخل ہونے سے پہلے اس سال سے سبق حاصل کر سکے ہیں۔سال جیسا کہ میں نے کہا ہے اچھے بھی آیا کرتے ہیں اور برے بھی آیا کرتے ہیں ، آسانی والے بھی اور سختی والے بھی۔قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ مصر میں سات سال بہت ہی آسانی کے