خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 866 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 866

خطبات طاہر جلد 1 866 خطبه جمعه ۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء کے خطوط میں یہ پہلو نمایاں ہوتا چلا جاتا ہے اور بے چینی اور بے قراری بڑھتی چلی جاتی ہے۔ چنانچہ امسال بھی دسمبر بلکہ اس سے پہلے سے ہی خطوط میں یہ پہلو بڑا نمایاں ابھرنا شروع ہوا کہ جلسے کے دن قریب آرہے ہیں ہمیں بہت اس کی تکلیف ہے ۔ بعض دوستوں نے تو بہت ہی دردناک خطوط لکھے اور عمومًا ساری دنیا میں بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایک بہت ہی اہم بنیادی حق سے محروم کئے گئے ہیں۔ جہاں تک غم کے پیدا ہونے کا تعلق ہے یہ تو ایک طبعی بات ہے اور اس سے روکا نہیں جا سکتا ۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ بھی طبعی حالات کے تابع غم کے اثر کے نیچے آتے تھے لیکن غم آپ پر قبضہ نہیں کیا کرتا تھا اور غم آپ کی ہمت میں کمی پیدا نہیں کیا کرتا تھا۔ پس غم کا پیدا ہونا یا آنکھوں کا نمناک ہو جانا یا آنسوؤں کا بہنا اس وقت تک اچھی علامت ہے جب تک اس کے نتیجے میں ہمت میں کمی نہ آئے اور حوصلوں کا سر نہ جھکے۔ اس لئے جس چیز کو عورتوں کا رونا کہا جاتا ہے اس رونے میں اور باہمت مردوں کے رونے میں بڑا فرق ہے۔ عورتوں کا رونا تو ایک محاورہ ہے کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ عورتوں میں بھی بڑی بڑی ہمت والی عورتیں ہوا کرتی ہیں جن کے رونے میں کمزوری اور شکست کی کوئی علامت نہیں ہوتی اور ایسے ایسے مرد بھی ہوا کرتے ہیں جن کا رونا محاروہ واقعہ عورتوں کا رونا ہوتا ہے۔ چنانچہ سپین کا آخری بد نصیب بادشاه مسلمان بادشاہ جب سپین سے جدا ہو رہا تھا اور سپین میں اس کی اور مسلمانوں کی شکست زیادہ تر اسی کی وجہ سے ہوئی تھی وہ اس کا ذمہ دار تھا۔ تو جب اس نے پہاڑی کی آخری چوٹی سے مراکو کی طرف جاتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ اس وقت اس کی ماں نے اس کو کہا کہ جس چیز کو تمہاری تلوار روک نہیں سکی اب آنسو بہا کر اپنی ذلت کا اظہار کیوں کر رہے ہو ، تمہارے آنسو وہ چیز تمہیں واپس نہیں دے سکیں گے۔ تو وہ عورت تھی اور اس کو رونا اور نوعیت کا رونا تھا وہ مرد تھا مگر اس کا رونا اور نوعیت کا رونا تھا۔ پس مومن کا غم اس کے ارادوں اور حوصلوں میں کمی پیدا کرنے کے لئے نہیں آیا کرتا بلکہ نئی مہمیز لگاتا ہے ۔ جس طرح گھوڑا جب تھکنے لگے تو سوار اسے مہمیز لگاتا ہے وہ اچانک پھر دوبارہ مستعدی کے ساتھ اپنا سفر پہلی سی شان اور تیز رفتاری کے ساتھ شروع کر دیتا ہے ۔ اسی طرح غم کے مواقع مومن کے لئے مہمیز لگانے کے لئے آیا کرتے ہیں اور اسی پہلو سے جماعت سے توقع ہے اور اب تک جماعت نے جس رنگ میں برے حالات کا مقابلہ کیا ہے خدا کے فضل سے میں یہ یقین سے