خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 862 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 862

خطبات طاہر جلد ۶ 862 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۸۷ء ہیں۔ پھر ایسی نمازیں بھی ہوتی ہیں جن میں کبھی کبھی اونگھ آتی ہے اور مسلسل ایسی جدو جہد ہوتی ہے جس میں انسان اپنی نمازیں پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے، بیدار کرنے کی کوشش کرتا ہے، کھڑی کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن شیطان ہر پہلو سے اسے ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ نمازیں جن میں بعض اوقات انسان کامل طور پر خدا کے جلال اور جمال کے جلوے کے نیچے آیا ہوا ہوتا ہے ان نمازوں کی کیفیت عام روز مرہ کی نمازیں جو اکثر لڑائیوں میں ہی صرف ہو جاتی ہیں ان سے بالکل مختلف ہوتی ہے ۔ چنانچہ آپ میں سے ہر ایک کو یہ تجربہ ہو گا کہ بعض ایسی نمازیں ہیں جو یادگار بن جاتی ہیں۔ انسان سوچتا ہے ہاں اس نماز کا بڑا لطف آیا تھا اور جب آپ غور کرتے ہیں تجزیہ کرتے ہیں ، تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ لطف اس لئے آیا تھا اس نماز میں جب آپ نے خدا کا نام لیا آپ کا دل لذت سے بھر گیا تھا، اس نماز میں کوئی غیر کی پرواہ نہیں رہی تھی اس نماز میں یوں لگتا تھا جیسے خدا کی جھولی میں آکے بیٹھ گئے ہوں امن ہے تو بس یہی ہے باقی ہر طرف خطرہ اور فتنہ صلى الله عروسة ہے۔ وہی نماز ہے جو ایک موحد کی دراصل نماز ہے۔ یہی وہ نماز ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی یا کو آغاز سے آخر تک ہمیشہ نصیب ہوئی اور آپ کے فیض سے آپ کے صحابہ کو بھی بار ہا نصیب رہی اور آپ ہی کے فیض سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس زمانے میں نصیب ہوئی اور آپ کے فیض سے پھر آپ کے صحابہ کو نصیب ہوئی۔ اس نماز کو زندہ کرنا اور نماز کو زندہ رکھنا توحید ہے۔ توحید کی جان عبادت ہے اور ایال کے لفظ میں اس عبادت کو کھول کر بیان کر دیا کہ وہ عبادت جو ہر غیر اللہ کے خیال سے پاک ہے صرف اور صرف خدا کے لئے وہی عبادت ہے اس کے سوا کوئی عبادت نہیں ہے اور اس کے ذریعے خدا کی مدد مانگنا انتہائی ضروری ہے اس لئے خوب اچھی طرح ان باتوں سے باخبر ہو کر باشعور طور پر اپنی نمازوں کی کیفیت کی حفاظت کریں اور کوشش کرتے رہیں کہ نماز میں جو لذت کے لمحات ہیں وہ زیادہ ہونے شروع ہو جائیں اور غفلت اور بوریت کے جو لمحات ہیں وہ نسبتاً کم ہونے شروع ہو جائیں۔ یہ کہنا تو آسان ہے لیکن عملاً بے انتہا مشکل کام ہے بہت ہی عظیم جدوجہد ہے ساری زندگی کی جدوجہد کا خلاصہ ہے یہ جدو جہد ، سارے جہادوں کی جان ہے یہ جہاد۔ اس لئے بار بار یاد دہانی کی بھی ضرورت پڑتی ہے بعض دفعہ یاد کرایا جاتا ہے پھر کچھ عرصے کے لئے لوگ متوجہ ہو جاتے ہیں پھر رفتہ رفتہ غفلت