خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 858 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 858

خطبات طاہر جلد ۶ 858 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۸۷ء طرف تو یہ غفلت آپ کوضرور شرک کی طرف لے جائے گی۔چنانچہ ہر شخص کا مختلف وقتوں میں خدا بدلتا رہتا ہے واحد خدا اور شیطانی خداؤں میں یہی فرق ہے۔جو خدائے واحد و یگانہ ہے وہ تو نہیں بدلتا وہ تو وہی ذات رہتی ہے۔جو نفس کے خدا ہیں یہ بت ہر روز نئے نئے بنتے ہیں۔نئے حالات میں نئے بت پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ جو جہاد ہے یہ عمر بھر کا جہاد ہے اور بعض پہلوؤں سے لمحہ لمحہ کا جہاد ہے۔آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے آج اپنے نفس کے اس بت کو توڑ دیا ہے وہ جو ہمیں عبادت میں تنگ کیا کرتا تھا ہم نے اس سے لڑائی کی اس پر غالب آگئے اور اس کو اپنے دل کے عبادت خانے سے نکال کے باہر مارا۔اس لئے اب ہم مطمئن ہو گئے کیونکہ آج ایک خدا نے دل پر قبضہ کی کوشش کی ہے کل ایک اور خدا اس پر قبضہ کی کوشش کرے گا اور یہ جاری سلسلہ ہے۔کوئی دنیا میں نہیں یہ دعوی کر سکتا انبیاء کے سوا جو مقام محفوظ تک اور مقام معصوم تک پہنچائے جاتے ہیں کہ ان کی شرک کے خلاف یہ اندرونی جد وجہد ختم ہو چکی ہو کیونکہ خدا کے سوا کسی اور چیز کا اب ان پر قبضہ نہیں رہا۔کتنا ہی بڑا ولی ہو کتنا ہی بڑا عالی مقام ہو روحانیت کے لحاظ سے جب تک عصمت کے مقام پر خدا اس کو فائز نہیں فرماتا اس کی خطرے کی حالت نہیں مل سکتی یعنی خطرہ بار بار اس کو مختلف سمتوں سے پیش آتا چلا جائے گا۔چنانچہ قرآن کریم نے جو متنبہ فرمایا کہ اس شیطان سے اس لئے خصوصیت سے متنبہ رہو اور اس کی حرکتوں سے خبر دار ہو کہ وہ تم پر ایسی سمتوں سے حملے کرے گا جن سے تم اس کو دیکھ نہیں سکتے۔اس کے حملے کی طرف بھی مخفی ہوگی ، جن سمتوں سے وہ تم پر حملہ کرتا ہے وہ ہمتیں بھی غیر معروف ہوں گی تمہیں پتا نہیں ہو گا کہ ان سمتوں سے حملہ ہو سکتا ہے۔چنانچہ آپ کو کسی سے محبت ہے، کسی سے پیار ہے اور کوئی تعلقات ہیں خونی تعلقات یا دوستانہ تعلقات عام طور پر انسان کو خیال بھی نہیں آسکتا کہ شیطان اس طرف سے بھی حملہ کرے گا لیکن یہ تعلقات ہوں یا دنیا طلبی کے تعلقات ہوں یا و جاہت طلبی کی تمنا ہو یا دنیا کی کسی اور رنگ کی تمنا ہو ہر تمنا کی راہ پر شیطان داخل ہوتا ہے اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ انسان کی امنیہ میں شیطان وحی کرتا ہے اس کی امیہ میں شیطان داخل ہوتا ہے کہ ایسا بھیس بدل کر بعض دفعہ حملہ کرتا ہے کہ وہ دل کی تمنا بن کر اس کے اندر جذب ہو کر آپ کے سامنے آرہا ہوتا ہے آپ اسے اپنی تمنا کے طور پر دیکھ رہے ہوتے ہیں اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس تمنا میں شیطان