خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 852 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 852

خطبات طاہر جلد ۶ 852 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۸۷ء کی خواہش اور بھی اس کے کئی معنی ہیں لیکن بنیادی طور پر نفس کی تمنا اور نفسانی خواہش کو ھوی کہتے ہیں۔اسْتَهْوَتْهُ کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے جسے اپنے نفس کی تمنا میں مبتلا کر دیا ہو اور اس کے نتیجے میں فِي الْأَرْضِ حَيْرَانِ اسے ایسی حالت میں چھوڑ دیا ہو کہ اس کا کوئی بھی قبلہ باقی نہ رہا ہو ، وہ زمین میں پراگندہ حال پھرتا رہے اس سے زیادہ خطرناک حملہ خدا کے بندوں پر شیطان کی طرف سے اور ممکن نہیں کہ کسی انسان کو اپنے نفس کی تمنا میں مبتلا کر دے۔اس کا اسیر بنادے اور قرآن کریم نے جیسا کہ بیان فرمایا ہے یہی شرک ہے ایک اور شرک میں بھی اس کا ایک بہت بڑا مقام ہے بعض پہلوؤں سے ظاہری شرک کی نسبت یہ شرک زیادہ خطرناک ہے کیونکہ قرآن کریم نے ظاہری شرک کی حالت میں مرنے والے کے لئے معافی تو نہیں رکھی لیکن مشرکین کا شرک سے بیچ کر ہدایت پا جانا قرآن کریم کی رُو سے ایک عام بات ہے جو ہوتا رہتا ہے اور قرآن کریم میں جو خود عرب میں عظیم الشان معجزہ دکھا یا وہ یہی تو تھا کہ ہزاروں لاکھوں مشرکین قرآن کریم کی برکت سے حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے عظیم جہاد کے نتیجے میں مشرک سے موحد بن گئے۔پس وہ ظاہری شرک میں مبتلا لوگ تھے ان کے لئے ہدایت کا ایک دروازہ کھلا رکھا ہے قرآن کریم نے اور یہ امکان جاری رکھا ہے لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو شخص خواہ ظاہری مشرک نہ بھی ہوا گر اپنے نفس کو اپنا محبوب بنالیتا ہے تو اس کے لئے سارے ہدایت کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور اس کے لئے ہدایت پانے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہتا۔چنانچہ اتنی خطرناک سزا اس کی بیان فرمائی۔فرمایا وَ أَضَلَّهُ اللهُ عَلَى عِلْمٍ وَ خَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ وَخَتَمَـ عَلَى بَصَرِهِ غِشوةً یہی وہ لوگ ہیں جن کے کانوں پر بھی خدا مہر لگا دیتا ہے ، جن کے دلوں پر بھی خدا مہر لگا دیتا ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔پس قرآن کریم نے آغاز ہی میں جس ختم کا ذکر فرمایا خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَ عَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ (البقرہ:۸ ) وہاں تو اس کی وجہ بیان نہیں فرمائی کہ کیوں خدا بعض لوگوں کے دلوں پر مُہر لگاتا ہے ان کے کانوں پر مہر لگاتا ہے، آنکھوں پر پردے ڈالتا ہے اور بہت سے مبصرین نے یہ بحث اٹھائی ہے کہ کیا یہ اس میں ظلم تو نہیں ، کیا یہ کسی اقتداری کیفیت کا ذکر تو نہیں ہو رہا کہ خدا جس کو چاہے مُہر لگا دے اور کوئی اس سے پوچھنے والا نہیں