خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 851
خطبات طاہر جلد ۶ 851 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۸۷ء نے مہلت مانگی خدا کے بندوں سے لڑنے کے لئے اور صرف دو تین قدم طے کرنے کے نتیجے میں یعنی خدا کے ان بندوں کے دو تین قدم طے کرنے کے نتیجے میں جو تو حید کی طرف رواں ہوئے اس نے سمجھ لیا کہ فتح مند ہو گئے ہیں اور میں اب ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔یہ قرآن کریم نے جو شیطان کے بدا را دوں کا ذکر فرمایا ہے ان سے متصادم بات ہے اس ذکر سے متصادم بات ہے اور بہت ہی سادگی ہے یہ خیال کر بیٹھنا۔اس لئے موحد ہر گز محفوظ نہیں ہے جب تک وہ قرآن کریم کے بیان کردہ تو حید کے اسباق پر غور نہیں کرتا اور اس کی توحید پر جو جا بجا مختلف سمتوں سے شیطان نے حملے کرنے ہیں ان سے باخبر نہیں رہتا اور اپنی توحید کی اپنی جان سے بڑھ کر حفاظت نہیں کرتا۔بسا اوقات ایک ایسا شخص غفلت کی حالت میں اپنی زندگی بسر کر دیتا ہے اور اس کو علم بھی نہیں ہوتا کہ تو حید کے نام پر اس نے کتنے شرک کئے۔اس لئے چونکہ یہ مضمون بہت ہی اہمیت رکھتا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس کی تفصیل تو بہت ہی بڑی ہے، بہت زیادہ ہے بہت وسعت رکھتی ہے مگر بنیادی طور پر آپ کو اس مضمون کی طرف متوجہ کرنے کے لئے میں نے آج چند آیات کا انتخاب کیا ہے۔جہاں تک شیطان کے حملے کا تعلق ہے اس حملے کا تعلق جس کا اس آیت کے مضمون سے تعلق ہے جو میں نے ابھی آپ کے سامنے پڑھی ہے اس آیت کا مرکزی نکتہ یہ ہے مَنِ اتَّخَذَ الهَهُ هَودَهُ جس نے اپنی ھوی کو اپنا معبود بنالیا ہو۔پس ایسے بندے تو بہت شاذ کے طور پر ملیں گے جو شیطان کو اپنا معبود قرار دیں اس لئے شیطان کی یہ کوشش کہ خدا کے بندے مجھے اپنا معبود بنالیں یہ تو لا ز ما ایک نا کام کوشش ہوگی اس میں کوئی امید شیطان نہیں رکھ سکتا لیکن خدا کے بندے اپنے نفس کو اپنا معبود بنا لیں یہ ایک ایسی شیطان کی کوشش ہو سکتی ہے جس میں کامیابی کے اس کے لئے بہت بڑے امکانات ہیں کیونکہ قرآن کریم نے انسانی فطرت کی یہ کمزوری خود بیان فرمائی کہ ایسے بہت سے خدا کے بندے ہوتے ہیں جو اپنے نفس کی خواہش کو اپنا خدا بنالیا کرتے ہیں۔اس لئے چونکہ یہ ایک فطری رجحان ہے اور فطری کمزوری ہے اس لئے ایک عیار حملہ آور لا زما اس سے استفادہ کرے گا۔چنانچہ قرآن کریم اسی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيُطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ (الانعام : ۷۲ ) اس شخص کی طرح جس کے ساتھ شیطان ن اسْتَهْوَتْهُ کا عمل ہو۔استَهْوَتْهُ کا کیا مطلب ہے؟ ھوی کہتے ہیں اپنے نفس کی تمنا نفس