خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 850 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 850

خطبات طاہر جلد ۶ 850 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۸۷ء ہے انسان کو موحد بنا دیتا ہے۔پھر اگر ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بھی سمجھا جائے کہ محض زبان کا اقرار نہیں بلکہ دل بھی اس دعوے پر مطمئن ہے اور اگر زبان کے اقرار کے ساتھ دل کا اطمینان شامل ہو جائے تو یقیناً ایسے شخص کو موحد سمجھنا چاہئے۔پھر ایک تیسرا تصور یہ ہے کہ اگر دل بھی مطمئن ہو تو کافی نہیں عملاً انسان کسی دوسرے شخص کے سامنے سر نہ جھکائے اور اس کی خدائی کو ظاہری طور پر قبول نہ کرے تو ایسا شخص کامل موحد ہو جانا چاہئے اور یہ اس کے سفر کی گویا آخری منزل ہے۔مگر قرآن کریم نے جس توحید پر زور دیا ہے اور جس کو بڑی قوت کے ساتھ بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے اس کا سفر دوتین قدموں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ انسان کی ساری زندگی پر بلکہ اس کی زندگی کے لمحے لمحے پر محیط ہے اور یہ سادہ سا خیال کر لینا کہ محض زبان کے اقرار سے یا دل کے اطمینان سے جسے انسان خود اطمینان کے طور پر دیکھ رہا ہو یا ظاہری طور پر غیر اللہ کے سامنے سر نہ جھکانے سے انسان موحد بن جاتا ہے اور توحید کا سارا سفر نہیں تین منازل کا نام ہے۔یہ تصور بہت بچگانہ اور بہت سادہ اور حقیقت سے دور تصور ہے۔قرآن کریم نے مختلف مخفی بتوں کا متعدد جگہ پر ذکر فرمایا اور شیطان کے مخفی حملوں کا بھی متعدد جگہ ذکر فرمایا۔اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ان مخفی بتوں کے ہوتے ہوئے انسان تو حید کے اقرار کی یہ تین منازل طے کرنے کے بعد ان مخفی بتوں سے غافل رہتے ہوئے بھی موحد کامل ہوسکتا ہے۔جن مخفی بتوں کا خدا نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے اس کی تفصیل بہت لمبی ہے سارے قرآن کریم میں جگہ جگہ یہ ذکر ملتا ہے اور شیطان کے حملوں کا جو ذکر فرمایا ہے اس کا بھی شرک کے ساتھ ایک تعلق قائم کر کے ذکر فرمایا ہے۔اس لئے میں اس ساری تفصیل میں تو اس وقت نہیں جاؤں گا مختصر بنیادی طور پر آپ کے علم میں یہ بات لانی چاہتا ہوں کہ یہ خیال کر لینا کہ ہم نے زبان سے اقرار کر لیا یا دل سے اطمینان حاصل کر لیا یا ظاہری طور پر شرک میں مبتلا نہیں ہوئے ہرگز کافی نہیں اور یہ خیال کر لینا کہ شیطان ایسے مواحدین کو پھر اپنے حال پر الگ چھوڑ دیتا ہے اور ان سے کوئی مجادلہ نہیں کرتا یہ بھی نفس کی انتہائی سادگی ہے۔شیطان کا سب سے بڑا حملہ توحید پر ہوتا ہے اور اگر تو حید میں یعنی انسان کے خدا کے ساتھ توحید کے تعلق میں وہ رخنہ ڈال دے اور انسان کے تصور یا عمل یا قلبی کیفیات میں شرک پیدا کر دے تو شیطان کی یہ سب سے بڑی فتح ہے۔اس لئے شیطان کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ قیامت تک کی اس