خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 848
خطبات طاہر جلد ۶ 848 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۸۷ء جن قوموں نے غالب آنا ہے خدا کے نام پر ان کے لئے تو ضروری ہتھیار ہے اگر وہ ان ہتھیاروں کے بغیر لڑنے کی کوشش کریں گے تو یہ ان کی سادگی کی انتہا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور اگر وہ ان ہتھیاروں کو سجائیں گے اور ان ہتھیاروں پر بھروسہ کرتے ہوئے صبر کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو خدا کا وعدہ ہے کہ سلطان ان کے مقدر میں ہے اور ان کا دشمن ہر سلطان سے محروم کر دیا جائے گا۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔آج بھی نماز جمعہ اور عصر کے بعد کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔ایک تو ہمارے لمسلہ کے ایک دیرینہ پرانے مخلص کارکن اور بہت اچھے داعی الی اللہ قریشی فضل حق صاحب گول بازارر بوہ کی اچانک وفات کی اطلاع ملی ہے۔بڑے مخلص فدائی اور جاں نثار مجاہد تھے اور اس دن بھی جس دن ان کو اچانک دل کا حملہ ہوا ہے خدا کی خاطر ہی سفر اختیار کر کے واپس آئے تھے۔نماز کے بعد واپس گئے ہیں تو اپنا دروازہ کھولنے کی توفیق نہیں ملی اسی وقت دل کا حملہ ہوا ہے اور ہسپتال میں اسی رات وفات پائی۔ان کے ایک صاحبزادے یہاں انگلستان کی جماعت کے ممبر ہیں۔دوسرا مکر مہ صالح خاتون صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ مختار احمد صاحب مرحوم یہ ہمارے عزیز مکرم مولود احمد خان صاحب اور مسعود احمد خان صاحب دہلوی اور پروفیسر سعود احمد خان صاحب کی ہمشیرہ تھیں۔مولود صاحب کو تو آپ جانتے ہیں یہاں انگلستان میں ایک لمبا بحیثیت امام مسجد لندن خدمت کی توفیق پاچکے ہیں۔ان کے دو بھائی ابھی بھی خدا کے فضل سے واقفین زندگی ہیں یعنی مسعود احمد خان دہلوی اور سعود احمد خان صاحب۔ایک اور خاتون ہیں امیر بیگم صاحبہ اہلیہ شیر محمد صاحب مرحوم یہ بھی موصیہ تھیں اور ہمارے اسیر راه مولا رانا نعیم الدین صاحب کی ہمشیرہ تھیں۔پھر ایک والدہ صاحبہ مکرمہ فرحت ریحان صاحبہ ماڈل ٹاؤن سے انہوں نے درخواست کی ہے اور ایک مکرمہ والدہ صاحبہ فائز محی الدین صاحب قریشی۔فیروز محی الدین صاحب جو یہاں رہے ہیں کافی عرصہ اسلام آباد میں بھی خدمت کرتے رہے ہیں پہلے بطور واقف زندگی افریقہ میں بھی ان کو لمبا عرصہ خدمت کی توفیق ملی ہے ان کی پہلی بیگم اور ان کے بیٹے فائز محی الدین کی والدہ تھیں۔ان سب کی نماز جنازہ غائب انشاء اللہ نماز عصر کے معاً بعد ہوگی۔