خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 847
خطبات طاہر جلد ۶ 847 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۸۷ء خدا اس کبر سے بھی ان کو محروم کر دے گا یعنی کبر کی ظاہری وجہ سے بھی ان کو محروم کر دے گا اور مومنوں کو لا ز ما فتح عطا کرے گا۔فرما یا فاستغفر باللہ پھر استغفار کرو۔تو مومنوں کے آغاز میں بھی استغفار ہے اور انجام میں بھی استغفار ہے اور بہت سے مضامین کے علاوہ اس کی ایک وجہ یہ ہے جسے جماعت احمدیہ کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اگر آغاز میں انکسار سچا تھا تو فتح کے بعد دل میں یہ خیال نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ ہم نے یہ چالا کی کی تھی ہم نے ایسی زبردست لڑائی کی تھی ہم نے یہ ہوشیاری کی تھی اس لئے خدا نے ہمیں فتح دی بلکہ وہ انکسار قائم رہنا چاہئے۔مومن کے انکسار کی حالت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی فتح سے پہلے بھی اس کے اندر انکسار ہوتا ہے، فتح کے بعد بھی اس میں انکسار ہوتا ہے۔جب اپنے آپ کو کمزور دیکھتا ہے اس وقت بھی اس میں انکسار ہوتا ہے جب اپنے آپ کو طاقتور اور غالب دیکھتا ہے اس وقت بھی اس کے اندر انکسار ہوتا ہے۔ا صلى الله چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ہے۔جس انکسار کے ساتھ مدینہ سے نکلے تھے اسی انکسار کے ساتھ مدینے میں داخل ہوئے۔نکلنے کا مضمون بالکل اور تھا بالکل نہتے ، بے اختیار اور بے طاقت دنیا کے لحاظ سے ، غاروں میں چھپ کر رہنے والے اور دبے پاؤں ایک سفر اختیار کرنے والے تا کہ دشمن کو آپ کی آہٹ کی آواز نہ آئے ، آپ کے پاؤں کی آہٹ بھی نہ سنائی دے۔اس حال میں جو سفر کرنے والا ہے وہ داخل ہوتا ہے تو ایسے کامل انکسار کے ساتھ کہ خدا نے اسے فتح عطا فرما دی۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید اور استغفار کے ساتھ روتے روتے آپ کی چکی بندھ رہی تھی اور سر جھکتے جھکتے اس کا ٹھی کے ساتھ لگ گیا تھا جس پر آپ بیٹھے ہوئے تھے اور اس حالت میں دنیا کا سب سے عظیم فاتح مکہ میں داخل ہو رہا ہے۔(السیرۃ النبوي لا بن هشام جلد صفحه: ۹۱ مطبوعہ بیروت) تو فرمایا کہ تمہارا استغفار تبھی معنی رکھے گا اگر فتح کے بعد بھی قائم رہے اگر فتح سے پہلے کی حالت اور ہوگی اور فتح کے بعد کی حالت اور ہو جائیگی تو تم خدا کی فوج میں داخل ہونے کے اہل نہیں ہوگے۔اگر تم سچے تھے پہلے کہ تمہاری اپنی طاقتوں سے نہیں بلکہ خدا کے فضل سے ہی تمہیں فتح نصیب ہونی ہے تو اس سچ کو پھر قائم رکھنا اور فتح کے بعد بھی یہ نہ خیال کر لینا کہ تمہاری طاقت کے نتیجے میں، تمہاری ہوشیاریوں کے نتیجے میں تمہارے منصوبے کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے فتح بخشی ہے بلکہ اپنے اندر کچھ بھی نہ دیکھنا اور خدا کی تسبیح و تحمید میں مصروف رہنا۔