خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 846 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 846

خطبات طاہر جلد ۶ 846 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۸۷ء جائیں گی اور اگر وہ خدا کی مخالفت کے نتیجے میں اور خدا کے پاک بندوں کی مخالفت کے نتیجے میں دنیا میں کسی بڑائی کو چاہتے ہوں اور ان کی مخالفت کے نتیجے میں دنیا والوں سے کوئی داد چاہتے ہوں اور رتبہ چاہتے ہوں اور اپنی طاقت کو بڑھانا چاہتے ہوں جیسا کہ ہمیشہ جماعت احمدیہ کی مخالفت میں مخالفین کے یہ پیش نظر رہا۔تو آغاز تو کبر سے ہوا لیکن فرمایا کہ وہ جس مقصد کو چاہتے ہیں یعنی دنیا کی طاقت کو بڑھانے کے لئے یہ شرارت کرتے ہیں وہ دنیا کی طاقتوں کو خدا کی جماعتوں کی مخالفت کے ذریعے نہیں پاسکتے بلکہ جو کبر ان کے دل کا ہے وہ بھی چھین لیا جائے گا وہ دنیا میں ذلیل ورسوا اور نہتے کر دیے جائیں گے۔پس عجیب فصاحت و بلاغت کا مرقع ہے یہ آیت جس نے اس مضمون کو دونوں طرف سے باندھا۔سورۂ نصر میں اس استغفار کو فتح کے بعد رکھا گیا ہے اور تسبیح وتحمید کے بعد رکھا گیا۔فرمایا:۔إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ ) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِرَيْكَ وَاسْتَغْفِرُهُ۔إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًان (النصر : ۴۲) صاف بتا دیا کہ صرف ان کی ناکامی کی پیشگوئی نہیں بلکہ مومنوں کی فتح کی بھی پیشگوئی فرما دی گئی ہے۔فرمایا ان کے ہاتھ سے تو ان کا کبر جاتا رہے گا لیکن مومنوں کو وہ فتح ضرور نصیب ہوگی جس کا وعدہ دیا گیا ہے اور جس فتح کے آخر پر استغفار کی طرف توجہ دلائی گئی۔پس یہ عجیب خدا کے بندوں کا حال ہے، عجیب نقشہ ہے۔فرمایا جب وہ خدا کی خاطر لڑنے کے لئے نکلتے ہیں تو بظاہر کتنے بڑے دشمن ان کے سامنے صف آراء ہوں وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے ایک لمحہ کے لئے مایوس نہیں ہوتے اور اپنی بڑائی نہیں سمجھتے بلکہ ہرلمحہ اپنے آپ کو کمزور دیکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی استغفار کرتے ہوئے اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور ان کے ہتھیار خدا کی تسبیح اور خدا کی تحمید ہیں۔ان کے مقابل پر ان کا دشمن ہے اس کے پاس دنیا کی طاقتیں تو موجود ہیں جس کے نتیجے میں اس کے دل میں کبر پیدا ہو گیا ہے مگر وہ سلطان سے خالی ہیں۔کوئی ایسی دلیل ان کے پاس نہیں جو خدا نے ان کو عطا کی ہو اور کوئی غالب آنے والی علامت ان میں موجود نہیں جس کے نتیجے میں سلطانی عطا کی جاتی اور جو کبر ان کے پاس ہے ایک وقت ایسا آئے گا کہ