خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 844 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 844

خطبات طاہر جلد ۶ 844 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۸۷ء کے ساتھ وہ ان کمزور تھوڑی تعداد کے لوگوں پر حملہ کرتے ہیں جو خدا کی طرف بلانے کا عزم لے کر دنیا میں خدا ہی کی خاطر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔فرمایا اِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي أَيتِ اللهِ تم تو تیار ہو گئے ہو تم تو بڑی پاک نصیحتوں کے ساتھ دنیا کو نیکی اور حق کی طرف بلانے کے لئے نکلے ہو۔تم میں انکسار ہے تم اپنی بڑائی نہیں کوئی سمجھتے محض خدا کی خاطر یہ سب کام ہیں میٹھی زبان کے ساتھ اور نرم دل کے ساتھ تم لوگوں میں پاک تبدیلی پیدا کرنا چاہتے ہو لیکن اس کے باوجود تم سے ایسا سلوک نہیں ہو گا جیسا تم دنیا سے کر رہے ہو۔اِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُوْنَ فِي أَيْتِ اللہ ایسے بڑے بڑے عظیم طاقتوں والے لوگ ہیں جو دنیا کے لحاظ سے عظیم طاقتیں رکھتے ہیں وہ خدا کی آیات کے بارے میں تم سے شدید جھگڑا کریں گے اور وہ لڑیں گے تم سے اس بات پر کہ تم کیوں خدا کی آیات بیان کرتے ہو اور اپنا یہ حال ہے کہ فی آیتِ اللهِ بِغَيْرِ سُلْطَنِ الہم اللہ کی آیات میں جھگڑا کر رہے ہیں اور خدا نے ان کو ایک بھی دلیل عطا نہیں کی اپنے حق میں۔یہ جو مضمون ہے بغیر دلیل کے لڑتے ہیں اس مضمون میں بھی بڑی گہرائی ہے اور بہت دلچسپ مضمون ہے۔پہلی بات تو یہ سمجھنے والی ہے کہ سلطان سے مراد عام دلیل نہیں ہے۔سلطان سے مراد یہ ہے ایسی روشن اور واضح دلیل جس میں غالب آنے کی طاقت ہے اور جس کے نتیجے میں سلطانی عطا ہوتی ہے۔لفظ سلطان یعنی بادشاہ اسی لفظ سے نکلا ہے جس سے سلطان دلیل نکلی ہے اور ایک ہی مادہ ہے اور اس میں چمک کے معنی بھی پائے جاتے ہیں ، اس میں نور کے سوا قوت اور آگ اور توانائی کے معنی بھی پائے جاتے ہیں اور غالب آنے کے معنی بھی پائے جاتے ہیں۔تو فرمایا خدا تعالیٰ نے تو ان کو کوئی ایسی دلیل عطا نہیں کی جس کے نتیجے میں وہ دنیا میں غالب آنے کے خواب و خیال بھی کر سکیں۔چھوٹی موٹی گھٹیا، ذلیل باتیں ہیں جو لے کر تم سے جھگڑنے کے لئے نکلے ہیں لیکن سلطان ان کے پاس کوئی نہیں۔اب یہ جو مذہبی محاورہ ہے دیکھئے! دنیا کے محاورے سے کتنا برعکس ہے؟ کتنا مختلف ہے؟ غالب تو کہتا ہے:۔اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا! لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں (دیوان غالب صفحه : ۱۸۲)