خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 839 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 839

خطبات طاہر جلد ۶ 839 خطبہ جمعہ ا ار دسمبر ۱۹۸۷ء اس پر غور کرنے سے بہت سے نکات ہاتھ آتے ہیں اور فتح ونصرت کو قریب تر لانے کے لئے جو اسباب ہیں ان پر نظر پڑتی ہے اور انسان اس مضمون کو سمجھنے کے بعد پہلے سے بہتر دعوت الی اللہ کرنے کا اہل ہو جاتا ہے۔چنانچہ بہت سے دوست جو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ دعوت الی اللہ تو ہم کر رہے ہیں لیکن ہماری دعوت کو پھل نہیں لگتا جبکہ اور بہت سے ہیں جو دعوت الی اللہ کا کام کرتے ہیں ہم سے کم وقت دیتے ہیں اور بظاہر علم میں بھی ہم سے زیادہ نہیں مگر ان کی دعوت کو پھل لگتا ہے۔اس کا کیا علاج ہے؟ قرآن کریم کی اس آیت پر غور کرنے سے اس کا علاج سمجھ میں آجاتا ہے۔خدا نے جس نصرت کا وعدہ فرمایا ہے کہ جوق در جوق لوگ دین اسلام میں داخل ہوں گے اس نصرت سے پہلے سب سے پہلے صبر کی تلقین فرمائی گئی۔فرمایا کہ صبر کرنے والوں کے سوا اس عظیم الشان فتح کو دوسرے لوگ نہیں دیکھ سکتے اور یہ فتح صبر کرنے والوں کے مقدر میں لکھی گئی ہے۔اس لئے صبر کے مضمون کو سب سے زیادہ اس میں اہمیت ہے۔وجہ یہ ہے کہ جب بھی غیر سے مقابلہ ہوتا ہے جیسا کہ دوسری آیت اس مضمون کو اور کھول دے گی تو اس مقابلے میں دنیا کی نظر کے لحاظ سے ایک طرف انتہائی کمزوری اور ایک طرف انتہائی بڑی طاقت ہوتی ہے اور کمزوری کو وعدہ دیا جا رہا ہے کہ وہ طاقت پہ غالب آجائے گی اور کمزور لوگ اس وعدے کے انتظار میں خدا سے ایک آس لگائے بیٹھے ہوتے ہیں چنانچہ غالب کے مقابل پر جب کمزور کو کھڑا کر دیا جائے تو کمزور اس مقابلے میں استقلال اختیار کر ہی نہیں سکتا جب تک اس کے اندر غیر معمولی صبر کی طاقت موجود نہ ہو اور صبر کے اندر دو مضامین ہیں ایک تو یہ کہ ہر قسم کی تکلیف کو برداشت کرتے چلے جانا اور کسی تکلیف کے موقع پر بھی مایوسی کا اظہار نہ کرنا، یقین کامل رکھنا کہ میں بہر حال غالب آؤں گا وقت کی بات ہے اس لئے جیسے کیسے بھی وقت کو کاٹوں کیونکہ بالآخر اس برے وقت نے ٹل جانا ہے اور اچھے وقت نے لا زما آنا ہے۔پس صبر کے مضمون میں یقین کامل کا مضمون بھی داخل ہے اور وہی لوگ صبر کر سکتے ہیں جن کا ایمان قوی ہو ، جو اپنے مقصد کے غلبے پر کامل یقین رکھتے ہوں اور کبھی بھی اس بارے میں متنذ بذب نہ ہوں کیونکہ یقین اور صبر دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔جہاں یقین میں کمی آئی وہیں صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے گا۔اسی لئے بیماروں کو تسلی دلانے کے لئے ان سے صحت کی