خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 838
خطبات طاہر جلد ۶ 838 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۸۷ء كبُرَ مَا هُمْ بِبَالِغِيهِ ان کے دل میں سوائے کبر کے اور کچھ بھی نہیں اور اس کب کو وہ بھی بھی پانہیں سکیں گے۔فَاسْتَعِذْ بِاللهِ پس اللہ تعالی کی پناہ مانگ اِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ يَقِيَاوه بہت سننے والا اور بہت دیکھنے والا ہے۔ان دونوں میں سے جو پہلی آیت ہے اس میں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو سورہ نصر میں بیان ہوا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ سورہ نصر میں فتح کے آنے کے بعد کی نصیحتیں ہیں اور اس آیت میں فتح کے آنے سے پہلے کی نصیحتیں جو فتح کو قریب تر لانے میں ممد و معاون ہو سکتی ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ بعد کا بھی نصیحت کا وہی مضمون ہے جو پہلے کا ہے صرف فرق یہ ہے کہ پہلے صبر کے مضمون کو زائد کر دیا گیا اور جن امور کی نصیحت فرمائی گئی ہے ان میں ترتیب کو بدل دیا گیا ہے۔چنانچہ سورہ نصر میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ جب خدا کی طرف سے اس کی فتح و نصرت کا وعدہ پورا ہو جائے اور فتح و نصرت آجائے وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِینِ اللهِ أَفْوَاجًا اور جب تو لوگوں کو دیکھے کہ حسب وعدہ وہ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اس کے بعد کیا کر؟ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَتِک اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر وَاسْتَغْفِرْهُ اور اس سے بخشش مانگ اِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا یقینا وہ بہت بخشنے والا ہے۔اب اس مضمون کو ذہن نشین رکھتے ہوئے اس پہلی آیت کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔فرمایا فَا صبر صبر کر۔یہ صبر کا مضمون سورہ نصر میں موجود نہیں چونکہ وعدہ آچکا ہے اور صبر کا تعلق وعدہ پورا ہونے سے پہلے کے مضمون سے ہے، پہلے کے زمانے سے ہے۔پس اس کو چھوڑ کر فرمایا اِنَّ وَعْدَ الله حق اللہ کا وعدہ یقیناً آنے والا ہے حق ہے اس میں کوئی بھی شک نہیں وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبك اپنے گناہوں کی بخشش طلب کر وَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبَّت اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ شاموں کو بھی اور صبح کو بھی ، رات اور دن تسبیح کر۔پس جہاں تک استغفار اور تسبیح اور تحمید کا تعلق ہے سورہ نصر میں فتح کے نتیجے میں ان امور کی طرف توجہ دلائی گئی اور فتح کے وعدے کے انتظار میں، وعدے کے پورا ہونے کے انتظار میں بھی اسی مضمون کی طرف توجہ دلائی گئی لیکن وہاں تسبیح اور تحمید کے بعد استغفار کا ذکر ہے یہاں تسبیح وتحمید سے پہلے استغفار کا ذکر ہے اور اس سے پہلے صبر کی نصیحت کا اضافہ فرما دیا گیا۔