خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 826
خطبات طاہر جلد ۶ 826 خطبہ جمعہ ۴ ردسمبر ۱۹۸۷ء کر ان کے پاس پہنچتے رہے اور جب ان سے تعجب سے پوچھا گیا کہ آپ اتنے بڑے افسر آپ کو بہترین سے بہترین شفاخانہ مہیا ہوسکتا ہے، مفت ہوسکتا ہے ان کو چھوڑ کر آپ یہاں کیوں آئیں ہیں ؟ تو یہ جواب دیتے رہے کہ یہ سب چیزیں وہاں ہیں جو آپ کہہ رہے ہیں لیکن شفا یہاں ہے اور ہم نے جائزہ لیا ہے تو اللہ تعالیٰ کا خاص شفا کا سلوک ہے جو اس ہسپتال سے ہو رہا ہے اور ایسے چشم دید گواہ صرف مسلمان نہیں بلکہ عیسائیوں میں سے بھی تھے Pagans میں بھی تھے۔تو یہ وہ تعلق ہے فرشتوں کا جس کے متعلق قرآن کریم نے سب سے پہلے فرشتوں پر ایمان لانے کی تاکید کر کے ذکر فرمایا۔جس چیز پر آپ ایمان لاتے ہیں اس کے ساتھ ایک تعلق قائم ہوتا ہے۔خدا کے تمام فرشتوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ تمام نظام کا ئنات سے چونکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے ایک ذاتی تعلق پیدا کرو۔یہ مضمون اتنا عظیم الشان اور اتنا وسیع ہے کہ اگر اس مضمون کو سمجھ کر انسان اپنی زندگی میں ایک انقلاب برپا کرے تو اس کو خلق آخر کہا جائے گا ایک نیا وجود ابھرے گا آپ کے اندر سے بالکل ایک نئی کائنات آپ کے اردگرد ظاہر ہو جائے گی لیکن اس مضمون کو فی الحال چھوڑتے ہوئے اس مختصر حصے کی طرف میں واپس آتا ہوں کہ جو انسان جس قسم کی نیکیاں ختیار کر رہا ہے اس کا از خود بعض فرشتوں سے تعلق قائم ہوتا چلا جا رہا ہے۔اب اس فرشتے کا یہ کام ہے کہ اپنے تعلق کے نتیجے میں وہ اس کے لئے دعا کرے اور اس کے لئے استغفار کرے۔چنانچہ جس آیت کی میں نے تلاوت کی تھی اس میں فرمایا کہ وہ فرشتے جن کے اوپر نظام کائنات کا انحصار ہے یعنی خدا کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں وہ کیا کرتے ہیں يَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا ۚ وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں ان کے لئے استغفار میں مصروف رہتے ہیں رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ) کہ اے ہمارے رب! تیری رحمت تو ہر چیز پر وسیع ہے جو نظام کا ئنات چلانے والے فرشتے ہیں ان سے بڑھ کر کوئی گواہ نہیں ہوسکتا اس بات کا کہ خدا کی رحمت کا قانون اس کے ہر دوسرے قانون پر بالا اور حاوی ہے کیونکہ جو قانون ان کے ہاتھ سے بروئے کار آتے ہیں، ان کی قدرت کے تابع رہ کر وہ عمل دکھاتے ہیں ان قوانین میں وہ فرشتے جانتے ہیں کہ خدا کی رحمت کا قانون ہر قانون کے اوپر حاوی ہے۔اس لئے سب سے پہلی