خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 79
خطبات طاہر جلد ۶ 79 خطبہ جمعہ ۳۰/جنوری ۱۹۸۷ء آپ نے ابھی اپنے اعمال کو اس قوت اور شان کے ساتھ ظاہر بھی نہیں کیا تھا کہ دشمن بھانپ گیا تھا کہ آپ کیا کرنے والے ہیں اور وہ آپ سے بہت زیادہ پہلے ان باتوں میں سرگرم عمل ہو چکا ہے جو کام آپ نے کرنے ہیں ان کے خلاف منصوبے پہلے بنا چکا ہے۔اس لئے لازما یہ خیال رکھنا ہوگا کہ یہ کام آپ کے لئے اس رنگ میں آسان نہیں ہے کہ آپ اکیلے کام کر رہے ہیں اور کوئی مخالفانہ کوشش نہیں ہورہی۔ہر جگہ جہاں جہاں آپ جائیں گے، جہاں جہاں آپ کوشش کریں گے وہاں دشمن آپ کا تعاقب کرنے کی کوشش کرے گا اور آپ کے نیک کاموں کو ضائع کرنے کی کوشش کرے گا۔ہر درخت کے ساتھ بعض بیماریاں لگی ہوتی ہیں بعض جانور لگے ہوتے ہیں جو زمیندار کو اس کی محنت کے پھل سے محروم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کچھ اندرونی کیڑے ہوتے ہیں، کچھ بیرونی کیڑے ہوتے ہیں۔پس جہاں آپ اندرونی کیڑوں، ان کیڑوں کی تلفی کی کوشش کریں جو آپ کی جڑوں میں ہو سکتے ہیں یعنی تقویٰ کی کمی اور ان مصلحتوں کی کمی جن کی طرف قرآن کریم توجہ دلا رہا ہے وہاں بیرونی نظر کو بھی بیدار کریں اور ہوشیاری کے ساتھ دشمن کے کاموں اور اس کی تدبیروں سے بھی واقف رہیں اور اس رنگ میں محنت کریں کے آپ کے محنت کو جانور نہ کھا جائیں، آپ کی محنت کو لٹیرے نہ لے اڑیں۔تبلیغ کے ساتھ اس مضمون کا ایک گہرا تعلق ہے اور اسی لئے اس خوشخبری کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمُوَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ که خبر دار ! حزن اور خوف کا مقام ضرور پیدا ہوگا محمد مصطفی ہے اور اس کے غلاموں کے لئے۔لیکن خدا یہ بتاتا ہے کہ اگر تم ولی اللہ بن جاؤ گے اگر اللہ سے دوستی کر کے یہ کام آگے بڑھاؤ گے تو پھر تمہارے لئے کسی قسم کا حزن اور کسی قسم کا خوف نہیں پھر تو لا زما دشمن نے ہارنا ہی ہارنا ہے یوں ہی باتیں ہوں گی ،شور ہوگا اور عملاً میں کوئی نقصان بھی تمہیں نہیں پہنچا سکیں گے۔صلى الله تو اس مسئلے کا حل بھی ساتھ رکھ دیا بلکہ حمل پہلے رکھا اور مسئلہ بعد میں بیان فرمایا۔یہ ہے خدا کے پیار کا اظہار۔اولیاء اللہ سے بات شروع کی اور حزن اور خوف کا بعد میں ذکر فرمایا ، حزن اور خوف کی بعد میں نفی فرمائی۔اگر حزن اور خوف کا پہلے ذکر ہوتا تو شاید ایک لمحے کا کچھ حصہ مومن کا دل کانپتا کہ پتا نہیں مجھے سے کیا ہونے والا ہے۔میں کیا باتیں کر رہا ہوں، کس رستے پر چل پڑا ہوں، آگے تو بڑے بڑے خطرات بھی ہیں۔اس لئے خدا نے اس کا حل پہلے بیان فرما دیا أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ