خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 823 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 823

خطبات طاہر جلد ۶ 823 خطبہ جمعہ ۴ ردسمبر ۱۹۸۷ء ہیں تو اس پہلو سے اس دائرے میں اس فرشتے کے ساتھ آپ کا ازخود تعلق قائم ہو جاتا ہے اور یہ تعلق منشاء الہی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ذاتی طور پر آپ کو نہ کسی فرشتے کے نام کی ضرورت ہے اس معاملے میں ، نہ اس کے ساتھ خاص محبت بنانے کی ضرورت ہے، اس کا جذبات سے تعلق ہی کوئی نہیں۔اس مضمون کا ہم آہنگی سے تعلق ہے گویا کہ خدا کی کائنات کے جو بھی مددگار بن جاتے ہیں خدا ان کا مددگار ہو جاتا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنی بھائی کی ضرورت یعنی بنی نوع انسان کی ضرورت پوری کرنے پر لگا رہتا ہے خدا اس کی ضرورتیں پوری کرنے پر لگا رہتا ہے۔وہ کس طرح کرتا ہے ؟ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایک بہت وسیع نظام ہے اس میں بعض باشعور قو تیں مقرر فرمائی گئی ہیں ، وہ باشعور طاقتیں اس نظام کی نگرانی کر رہی ہیں۔آپ اگر کسی کے رزق کی ضرورت پوری کرنے کے لئے خاص توجہ رکھتے ہیں، غرباء سے خاص ہمدردی رکھتے ہیں تو جب آپ کو وہ ضرورت پیش آئے گی تو باشعور فرشتے خود آپ کی ضرورت کا خیال رکھیں گے۔خواہ آپ اپنے لئے وہ چیز حاصل کر سکیں ، یا نہ کر سکیں خواہ باشعور طور پر آپ کے دل میں دعا کی توجہ پیدا ہو یا نہ ہو۔اگر آپ کا یہ مزاج ہے تو قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ خدا کے فرشتے آپ کے لئے دعا شروع کر دیتے ہیں اور آپ کے لئے استغفار شروع کر دیتے ہیں کیونکہ یہاں تعلق کا معاملہ ہو جاتا ہے۔بچہ جس طرح ماں سے تعلق قائم کرتا ہے ماں بچے سے تعلق قائم کرتی ہے ضروری نہیں کہ دونوں ہی بیک وقت کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے باشعور طور پر کوئی کام کریں۔بچہ بعض دفعہ لاشعوری طور پر ایک چیز کا محتاج ہوتا ہے اس کو پتا ہی نہیں میں کس چیز کا محتاج ہوں اور ماں کا دل اس کے لئے حرکت میں آجاتا ہے ، ماں کی قوتیں اس کی خدمت پر مامور ہو جاتی ہیں۔اسی طرح بسا اوقات انسان کو خود اپنی ضرورت کا نہیں پتا چلتا لیکن اگر اس کا تعلق اس فرشتے سے قائم ہو چکا ہے جو کسی ضرورت پر مامور ہے اور وہ اس لحاظ سے اس فرشتے کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کر چکا ہے تو پھر اس معاملے میں اس کے ساتھ ایک خاص سلوک ہوگا۔یه مضمون آپ صلحاء کی زندگی میں کھلی کتاب کی طرح پڑھ سکتے ہیں۔اگر خود بخود ہر نیک کی ہر ضرورت ہر معاملے میں خود بخود پوری ہونی چاہئے تو پھر ایسا کیوں نظر نہیں آتا اور کیوں یہ دکھائی دیتا