خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 819 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 819

خطبات طاہر جلد ۶ 819 خطبہ جمعہ ۴ ردسمبر ۱۹۸۷ء سے بھی تم مطالعہ کرو ہر قانون کے پیچھے ایک اور قانون ،لطیف تر قانون اس قانون کا محرک اور موجب بنا ہوا نظر آئے گا اور آخری باگ ڈور نظام کائنات کی خدا کے مقرر کردہ فرشتوں کے ہاتھ میں ہے۔اس کی لا انتہا مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔آپ جس علم کے بھی ماہر ہوں یا جس علم سے بھی آپ کا تعلق ہو اس پر آپ غور کر کے دیکھیں تو ہمیشہ یہی جواب نظر آئے گا کہ کچھ طاقتیں پس پردہ کار فرما ہیں جن کے نتیجے میں بعض چیزیں ہمیں متحرک یا از خود متحرک نظر آتی ہیں۔اب آپ کے جسم کے عضلات ہیں اور سارا جسم اور اس کی حرکت اور اس کی زندگی عضلات کی حرکت اور زندگی پر مبنی ہے اور بظاہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ خون کی طاقت سے براہ راست عضلات حرکت میں آگئے۔یہ درست ہے کہ خون کی طاقت سے وہ حرکت میں آتے ہیں لیکن ہر عضلہ پر اعصاب کی ایک نس مقرر ہے جس کی طاقت عضلہ اور خون کی طاقت کے مقابل پر بظاہر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔اتنی خفیف سی برقی رو اس میں دوڑتی ہے اور اتنی معمولی سی کیمیائی تبدیلی اس کے اندر پیدا ہوتی ہے کہ سارے اعصاب کی پوری طاقت کا مجموعہ بھی ایک عضلہ کی طاقت سے کم ہوتا ہے اگر اسے بجلی کے پیمانوں پر اور قوت کے ظاہری پیمانوں پر نا پا جائے لیکن سارے جسم کی طاقت موجود رہے اور عضلات کانسوں سے تعلق ٹوٹ جائے تو اسی کو ہم مفلوج کہتے ہیں بالکل بے معنی اور بے حقیقت ہو کہ رہ جاتی ہیں وہ طاقتیں جو بظاہر از خود کارفرما نظر آتی ہیں اور اس تعلق کا جو مرکز ہے وہ دماغ یعنی ظاہری دماغ نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرح اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے اس اعصابی نظام کا مرکز روح ہے اور اس کا اور دماغ کا ایک رشتہ ہے اور ہر حکم جو عضلات کو دیا جاتا ہے وہ اس روح کے واسطے سے پہنچتا ہے۔یہاں تک تو دنیا کے ماہرین کی نظر بھی پہنچنے لگ گئی ہے۔اتنی بات کو تو اب جو اعصاب کے ماہر ڈاکٹر ز ہیں اور نیورولوجسٹ بڑے بڑے چوٹی کے سرجنز ( Surgeons) وغیرہ بھی جیسا کہ میں پہلے کئی دفعہ سوال و جواب کی مجالس میں بیان کر چکا ہوں وہ اس مضمون کو نہ صرف پہنچ چکے ہیں بلکہ بڑے دھڑلے سے عام دنیا دار یا مادہ پرست علماء کے مقابل پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کرنے لگ گئے ہیں کہ دماغ اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں ہے یہ تو ایک آلہ کار ہے اور اس کے پیچھے کوئی طاقت ہے جسے ہم جیسے Brain کے مقابل پر Mind کہتے ہیں اس طرح دماغ کے مقابل پر اسے روح قرار دیا