خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 820
خطبات طاہر جلد ۶ 820 جاسکتا ہے اور مختلف دنیا کی زبانوں میں اسے مختلف نام دیئے جاتے ہیں۔خطبہ جمعہ ۴ ردسمبر ۱۹۸۷ء پس بالآخر کائنات کے ہر نظام کے ہر جزء کی تان روحانیت پر ٹوٹتی ہے اور اس سے اگلا قدم فرشتوں کا ہے۔ہر چیز پر فرشتے مامور ہیں اور ان فرشتوں کی اصل طاقت سے ساری کائنات رواں دواں ہے اور ان کے نظام کے نیچے چل رہی ہے۔پس فرشتوں سے تعلق کے لئے فرشتوں کے نظام کو سمجھنا ضروری ہے ورنہ نام بنام اس طرح کا تعلق تو آپ فرشتوں سے کبھی بھی قائم نہیں کر سکتے جس طرح جہلاء بعض دفعہ ہمزاد کا تصور پیش کرتے ہیں یا الہ دین کے چراغ کی کہانی میں ایک جن کا تصور پیش کیا گیا ہے جو چراغ کو مکس کرنے سے خود بخود ظاہر ہو جائے گا اور آپ کے سارے کام کرنے شروع کر دے گا۔خدا کی کائنات کہانیوں پر بنی ہوئی نہیں ہے خدا کی کائنات گہرے حقائق پر مبنی ہے۔ان حقائق کو سمجھنے کے نتیجے میں آپ کی طاقتیں بڑھیں گے ان حقائق کو سمجھنے کے نتیجے میں آپ کے مسائل حل ہوں گے ورنہ بغیر حقائق کو سمجھے بغیر حقائق کے عرفان کے آپ خدا کی کائنات سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔یہی کائنات ہے جو آج سے دس ہزار سال پہلے کے انسان کے سامنے بھی کھلی پڑی تھی ، یہی کائنات ہے جو آج کے انسان کے سامنے بھی کھلی پڑی ہے لیکن جن لوگوں نے اس کا ئنات کے معارف کو سمجھنے کی کوشش کی اس کے پس منظر میں محرکات کو جاننے اور پہچاننے کی کوشش کی انہوں نے اس سے بہت کچھ حاصل کیا اور دس ہزار سال پہلے کا انسان جس کا ئنات میں بستا تھا اور آج کا انسان جس کا ئنات میں بستا ہے ظاہراً ایک ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان دونوں کے درمیان زمین و آسمان کو فرق دکھائی دیتا ہے۔اسی طرح کل آنے والا انسان اسی کا ئنات سے ایسے ایسے فائدے اٹھائے گا جو آج آپ کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتے۔پس فرشتوں کے نظام کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے ورنہ ان کی نہ دعاؤں سے آپ استفادہ کر سکتے ہیں، نہ ان کے استغفار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، نہ کوئی ان کی شفاعت کا اہل ہوسکتا ہے۔شفاعت کے اندر ملنے کا مضمون ہے تعلق قائم کرنے کا مضمون ہے دو چیزوں کو جوڑنے کا مضمون ہے اس لئے ان کا تعلق تو خدا سے ہے ورنہ ان کے لئے شفاعت کی اجازت کا کبھی بھی کوئی سوال پیدا نہ ہوتا۔سوال یہ ہے کہ ہمارا ان سے تعلق کیسے قائم ہو۔اس تعلق کا راز اس بات میں ہے کہ دوانسان