خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 814
خطبات طاہر جلد ۶ 814 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۷ء کا تعلق رکھنے والی۔مولوی محمد الیاس خان صاحب خود بہت بڑے سلسلے کے عالم تھے۔1907ء میں آپ نے بیعت کی تھی اور آپ کے دو بیٹے بھی خدا کے فضل سے بہت جماعت میں نمایاں مقام رکھنے والے تھے۔ایک تو زندہ ہیں ماشاء اللہ اور دوسرے ان کی بیٹیوں میں سے ایک صالحہ بیگم مرحومہ تھیں رستم خان صاحب شہید کی بیگم۔انہوں نے بھی آگے اپنی اولاد کی بہت اچھی تربیت کی ہے ماشاء اللہ اور دوسری کلثوم بیگم صاحبہ اہلیہ قاضی محمد یوسف صاحب اور تیسری اور بیٹیوں میں سے یہ تھیں یہ تین بیٹیاں میں جانتا ہوں خاص طور پر باقیوں سے تو میں واقف نہیں ہوں۔یہ تھیں ہمارے بشیر رفیق صاحب کی والدہ۔یہ ساری جو مائیں تھی اللہ کے فضل سے ماں کی حیثیت سے اپنے بچوں کے لئے بہت بڑا خزانہ چھوڑ گئی ہیں تربیت کا اور سب اولاد میں خدا کے فضل سے سلسلہ سے تعلق اور وفا کا جذبہ موجود ہے الا ماشاء اللہ کوئی ایک آدھ آدمی اپنے امتحان میں نا کام بھی ہو جاتا ہے لیکن عمومی طور پر دیکھا جاتا ہے کیسی تربیت کی جارہی ہے اور صوبہ سرحد میں خاص طور پر میں نے یہ مطالعہ کیا ہے کہ تربیت کا بھاری دار و مدار ماؤں پر تھا اور اب بھی ہے یعنی والد کا اتنا زیادہ دخل نہیں ہوتا۔جن کی مائیں اچھی تھیں ان کی اولادیں لازما مخلص بنی ہیں اور ضروری نہیں کہ والد اچھا ہو اور اولا د اچھی ہو کیونکہ بعض معاشرے ہوتے ہیں ان میں مائیں زیادہ کردار ادا کرتی ہیں لیکن بالعموم بھی جماعت احمدیہ میں ساری دنیا میں ماؤں کو یہ پوزیشن اپنی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ وہ آئندہ اچھی نسلوں کو پیدا کرنے والی ہوں۔بہر حال ان کی نماز جنازہ غائب کے علاہ ایک ہمارے بہت ہی پرانے دوست اور مخلص فدائی احمدی واقف زندگی مولوی محمد صدیق صاحب جنگلی کی اہلیہ کی اچانک وفات کی بھی اطلاع ملی ہے۔اسی طرح مکرم ڈاکٹر عبدالرشید صاحب تبسم جو علمی وادبی حلقوں میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے اور پاکستان میں احمدیت کے شدید مخالفت کے دور میں بھی ان کی ادبی علمی کوششوں کو اس حد تک بھی سراہا گیا کہ حکومت پاکستان ان کو انعام دینے پر یوں کہنا چاہئے کہ مجبور ہوگئی یعنی ان کو نظر انداز نہیں کر سکتی تھی اور کافی انہوں نے ادبی علمی حلقوں میں مقام پیدا کیا تھا۔ان کی بھی اچانک وفات کی اطلاع ملی ہے۔پھر مکرم ابراہیم صاحب لکھو ما جو افریقہ اور غانا سے تعلق رکھتے تھے ہمارے مخلص احمدی دوست کے خسر تھے اس حد تک مجھے علم ہے صرف لیکن ان دوست نے جن کے یہ خسر تھے انہوں نے ان کی نماز جنازہ کی درخواست کی ہے تو انشاء اللہ نماز جمعہ اور عصر کے معابعد یہ جنازے پڑھے جائیں گے۔