خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 813 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 813

خطبات طاہر جلد ۶ 813 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۷ء اس کو عادت ہے چغلیوں کی بھی ، یک طرفہ باتیں سنتا ہے اور فیصلے دیتا چلا جاتا ہے۔تو حسن ظنی میں میں کہتا ہوں کہ آپ نے اپنی طرف سے دفاع کیا لیکن یہ کیا دفاع ہے؟ اس کے متعلق تو یہ مصرع غالب کا آپ پر صادق آتا ہے کہ:۔ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو اگر ایسے ہی دفاع کرنے ہیں آپ نے خلافت کے یہی عزم تھے آپ کے جب آپ نے عہد کئے تھے کہ ہم قیامت تک اپنی نسلوں کو بھی یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ تم نے خلافت احمدیہ کی حفاظت کرنی ہے اور اس کے لئے ہر چیز کی قربانی کے لئے تیار رہو۔اگر یہی عہد سے آپ کی مراد ہے تو یہ عہد مجھے نہیں چاہئے۔خلافت احمدیہ کو یہ عہد نہیں چاہئے کیونکہ اس قسم کی حفاظت نقصان پہنچانے والی ہے فائدہ پہنچانے والی نہیں ہے۔لیکن صرف ایک خلافت کا معاملہ نہیں ہے سارے نظام اسلام کا معاملہ ہے، تمام اسلامی قدروں کا معاملہ ہے۔ہم تو دور کے مسافر ہیں ایک صدی کا ہمارا سفر نہیں ہے سینکڑوں سال تک اور خدا کرے ہزاروں سال تک ہم اسلام کی امانت کو حفاظت کے ساتھ نسلاً بعد نسل دوسروں تک منتقل کرتے چلے جائیں گے۔اس اہم مقصد کے لئے آپ کو پوری طرح ہتھیار بند تو ہونا چاہئے۔ان معاملوں میں کیوں بار بار آپ شیطان کے حملوں کے لئے اپنے سینوں کو پیش کرتے ہیں جن میں قرآن کریم نے کھول کھول کر آپ کو بیان فرما دیا ہے کہ ان اصولوں سے ہٹو گے تو موت کے سوا تمہارا کوئی مقدر نہیں ہے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: نماز جمعہ اور نماز عصر کے معا بعد کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔سب سے پہلے تو ہمارے عزیز دوست اور پرانے سلسلے کے دیرینہ کارکن جو آپ کے ہاں انگلستان میں ایک لمبا عرصہ تک امیر جماعت انگلستان کے طور پر کام کرتے رہے ہیں یعنی مکرم بشیر احمد خان صاحب رفیق کی والدہ کی وفات کی اطلاع ملی ہے۔ان کی والدہ مولوی محمد الیاس خان صاحب کی بیٹی تھیں جن کے دو صاحبزادے بھی جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی خدمتوں میں اور تقویٰ کے ساتھ وفا کے ساتھ وابستگی میں بہت معروف ہیں یعنی عبدالسلام خان صاحب اور عبد القدوس خان صاحب۔ان کی والدہ موصیہ تھیں اور بہت ہی سلسلے کے ساتھ گہرا محبت اور اخلاص اور وفا