خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 810
خطبات طاہر جلد ۶ 810 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۷ء اگر کوئی قائم رہتا ہے تو وہ فساد پیدا کر ہی نہیں سکتا۔اس لئے اگر وہ کہتا ہے میں مصلح ہوں تو بیشک مصلح کا دعویٰ کرتا پھرے اس کے اوپر کوئی ہمیں اعتراض نہیں، قرآن کریم اس کو اجازت دیتا ہے لیکن اصلاح کی بات کر رہا ہو خواہ بچی بھی ہو لیکن منصب سے ہٹ کر کر رہا ہے تو وہ لا زما مفسد ہے اور بہت سے ایسے مفسد ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ عمداً مجرم نہیں ہوتے بعض دفعہ ولکن لا يَشْعُرُونَ ان بیچاروں کو پتا ہی نہیں کہ وہ کیا کہ رہے ہیں۔اس لئے دونوں قسم کے لوگ نظام کو تو بہر حال نقصان پہنچا دیتے ہیں۔عمد مفسد ہوں گے تو خدا کے ہاں مزید سزا پائیں گے اور بغیر عمد کے مفسد ہوں گے تو نظام کو تو بہر حال نقصان پہنچا دیں گے۔ان کو اس درجے کی سزا ملے یا نہ ملے جو باشعور جرم کرنے والے کو ملتی ہے یہ الگ مسئلہ ہے۔اس لئے لا يَشْعُرُونَ والے پہلو کے تابع یہ باتیں کئی لوگ مجھے لکھتے ہیں جب ان کے اوپر پکڑ کی جاتی ہے کہ ہم نے جان بوجھ کر نہیں کیں ، ہم نیک دلی سے یہ کرنے والے تھے۔ان کو میرا یہی جواب ہے کہ تم چاہے نیک دلی سے کسی کو قتل کرو یا بد دلی سے قتل کرو وہ تو مارا گیا جس کو تل کر دیا گیا۔یہ فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے کہ تم نے بدنیتی سے اس کو مارا تھا یا نیک نیتی سے مارا تھا۔جیسا کہ قرآن کریم میں ایک جگہ پتا چلتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے سوال کیا کہ کیوں مار دیا تم نے انہوں نے بتایا کہ مارا تو ہے لیکن نیک نیتی سے مارا ہے کیونکہ خدا کا حکم تھا۔تو بعض دفعہ ایسی باتیں بھی ہوتی ہیں کہ کسی کے قتل کا کسی کی موت کا قانون فیصلہ کر دیتا ہے اور چونکہ خدا قانون کا مرجع اور منبع ہے اس لئے جب خدا کسی کو حکم دیتا ہے تو وہ اور مسئلہ بن جاتا ہے لیکن جہاں تک مرنے والے کا تعلق ہے اور جہاں تک دیکھنے والوں کا تعلق ہے وہ قتل ہی کہلائے گا۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی اعتراض کیا کہ تم نے کیوں ناحق ماردیا کسی کو حالانکہ خدا کے نبی تھے لیکن دیکھنے والے کے نکتہ نگاہ سے ان کا اعتراض درست تھا۔پس جہاں تک معاشرے کا تعلق ہے جو شخص بھی اپنے مقام اور مرتبے سے ہٹ کر بات کرتا ہے اپنے دائرے سے نکل کر بات کرتا ہے ساری جماعت کو اس بات کا حق ہے اس کا فرض ہے کہ اس کو متوجہ کرے اور کہے کہ جہاں تک قرآنی تعلیم کا تعلق ہے ہمارے نزدیک تم مفسد ہو اور ہم تمہارا یہ دعویٰ قبول نہیں کریں گے کہ تم نے اصلاح کی خاطر یہ بات کی تھی۔یہ دعویٰ جو ہے تم جانو اور خدا جانے