خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 809
خطبات طاہر جلد ۶ 809 جاؤ لیکن بیعت پر قائم رہتے ہوئے تمہیں تصادم کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۷ء یہ وہ بات ہے جس کے متعلق قرآن کریم کی ایک آیت ہمیں ہمیشہ کے لئے متنبہ کر چکی ہے کہ خبردار! تفاوت کی راہ اختیار نہ کرنا۔تفاوت نام ہے دوموتوں کے ٹکرانے کا دو ایسی چیزوں کے ٹکرانے کا جو دونوں اپنے منصب سے ہٹ چکی ہیں۔اس لئے اگر ایک کو اپنا منصب چھوڑتے ہوئے دیکھو کبھی تو تم اسی رو میں بہہ کر اپنا منصب نہ چھوڑ دینا۔پس ایسے فتنے تو پیدا ہوتے رہیں گے اور ہمیشہ اصلاح کے نام پر ہوں گے کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ:۔وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد برپا نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کی خاطر کی بات کر رہے ہیں۔نظام جماعت میں فتنہ پیدا ہورہا ہے اس کے متعلق ہم عوام الناس کی رائے عامہ کو بیدار کر رہے ہیں اور بتارہے ہیں کہ ایسی ایسی خطرناک باتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ان کے متعلق یہ کیوں کہہ ديا أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لَا يَشْعُرُونَ (البقره ۱۲-۱۳) خبردار! وہ خود مفسد ہیں اور ان کو علم نہیں ہے اس میں تو بظاہر کوئی دلیل نہیں ہے انہوں نے کہا ہم اصلاح کرتے ہیں انہوں نے کہا نہیں تم مفسد ہو، کس دلیل سے ان کو مفسد قرار دیا جا سکتا ہے؟ وہ وہی دلیل ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے جس کی میں نے آغاز میں تلاوت کی تھی۔ایک شخص جب اپنے منصب سے ہٹ کر باتیں کرتا ہے تو خواہ وہ اصلاح کی باتیں ہوں ، وہ ضرور مفسد ہے کیونکہ قرآن کریم نے فساد کی تعریف ہی منصب سے ہٹنا قرار دیا ہے۔تفاوت جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے عربی زبان کے مطابق ان دو چیزوں کے ٹکراؤ کا نام ہے جو اپنے منصب سے الگ ہو چکی ہیں اپنے مقام کو چھوڑ کر فوت ہو چکی ہیں اپنی جگہ سے پس جس شخص نے کوئی اصلاح کی بات کی ہو اور اس کا مقام ہی نہ ہو وہ اصلاح کی بات کرنے کا وہ قضاء میں دخل دے رہا ہے، کبھی امور امہ میں دخل دے رہا ہے، کبھی تعلیم میں دخل دے رہا ہے ، نہ اس کو ناظر امور عامہ مقرر کیا ، نہ قاضی مقرر کیا گیا نہ اور عہدے دیئے گئے۔اپنے محلے کا سیکرٹری بھی نہیں ہے اور سیکرٹری بھی ہے تو اس کا کام ہے اپنے مجلس عاملہ میں بات کرنا یا اوپر کے عہد یداروں کو متنبہ کرنایا عوام الناس میں بغیر کسی کی ذات پر حملہ کئے عمومی نصیحت کرنا۔تو ان چیزوں پر