خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 808
خطبات طاہر جلد ۶ 808 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۷ء اور نظارت کے اوپر محاکمہ کروں یا ان پر حج بن کر بیٹھ جاؤں۔اس لئے تم مجھے کیوں بتا رہے ہو؟ تم اپنے منصب سے ہٹ چکے ہو اور چاہتے ہو کہ میں بھی اپنے منصب سے ہٹ جاؤں۔تمہارا فرض ہے کہ اگر تم سمجھتی ہو کہ خلیفہ وقت معصوم ہے واقعہ تو جن باتوں میں سمجھتی ہو کہ وہ آگئے ہیں وہ خلیفہ وقت کو بتاؤ کہ تم ان باتوں میں نہ آؤ، اس کو لکھ کر بھیجو اور پھر تمہارے لئے دو ہی رستے ہیں یا تو اس کے عدل پر پھر حملہ کرو یہ نہ کہو کہ ناظر امور عامہ بددیانت ہے پھر جرات کے ساتھ تقویٰ کے ساتھ یہ فیصلہ کرو کہ جو بھی تمہیں تقویٰ نصیب ہوا ہے اس کے مطابق کہ خلیفہ وقت جھوٹا ہے، خلیفہ وقت بددیانت ہے اور اس کو چھوڑ دو۔اگر چھوڑ دو گے تو تب بھی رخنہ پیدا نہیں ہوگا اور اس میں رہ کر جب تم تصادم کی راہ اختیار کرو گے تو تفاوت پیدا ہوگا اور تفاوت کے نتیجے میں لازما فتور ہوگا یہ ہم برداشت نہیں کر سکتے۔اگر یہ مسلک اختیار کرتے ہمیشہ لوگ تو کبھی کوئی فتنہ پیدا نہ ہوتا، فتنہ سر ہی نہیں اٹھا سکتا تھا۔آج بھی پاکستان میں بھی باہر بھی جہاں بھی متفی پیدا ہوتے وہ پہلا حملہ خلیفہ وقت پر نہیں کیا کرتے۔وہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے ہماری دشمنی میں خلیفہ وقت تک یہ بات پہنچائی ، فلاں شخص نے فلاں آدمی سے پیسے کھا لئے ، اس کی دعوتیں اُڑائیں اور پھر خلیفہ وقت سے یہ بات کہی ایک مخرج ہے اس وقت وہ لوگوں کے پاس پہنچتا ہے اور بڑے ہی چاپلوسی سے کہتا ہے کہ میں تو عاشق ہوں خلیفہ وقت کا ، خلیفہ وقت تو بہت ہی بلند مقام رکھتے ہیں اور میں تو معافیوں کی عاجزانہ درخواستیں بھی کر رہا ہوں لیکن معافی نہیں ملتی ناظر امور عامہ ایسا ذلیل آدمی ہے کہ وہ راشی ہے وہ فریق ثانی سے دعوتیں اُڑا چکا ہے، فریق ثانی سے پیسے کھا چکا ہے حالانکہ جو مخرج ہے میں اس کے متعلق جانتا ہوں کہ اس کو عادت ہے لوگوں کو پیسے چڑھانے کی اور دعوتیں کرانے کی اور میں نے آغا ز خلافت ہی میں اس کے متعلق متنبہ کر دیا تھا عہدیداروں کو کہ اس کی کوئی دعوت قبول نہیں کرنی آپ نے۔اب وہ چونکہ خود اس مرض کا شکار ہے وہ ناظر امور عامہ کے متعلق یہ باتیں کرتا ہے اور ظلم کی بات یہ ہے کہ سننے والے سن لیتے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ ہاں ! خلیفہ وقت نے ناظر امور عامہ کی بات سن لی ہے اس لئے اس بیچارے پر ظلم ہو رہا ہے حالانکہ اس کا اگلا نتیجہ نہیں نکالتے۔جو خلیفہ اتنا بیوقوف اور احمق ہو کہ اس کو معاملہ نہی ہو ہی کوئی نہیں جس طرف سے بات سنی اس کو فوراً قبول کر لیا وہ اس لائق کہاں ہے کہ تم اس کی بیعت میں رہو۔اس لئے تمہارے تقویٰ کا یہ تقاضا ہے اگر تم متقی ہو تو اس کی بیعت سے الگ ہو