خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 805
خطبات طاہر جلد ۶ 805 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۷ء ہے اور غیر محل جگہ میں یہ باتیں کرنا جائز نہیں ہے، تم فتور پیدا کر رہی ہو۔ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ تم مظلوم ہو یا ظالم ہو لیکن اپنے اس فعل سے نظام جماعت پر تم ضر ور ظلم کر رہی ہو، اس لئے تم قاضی کے پاس رجوع کر دیا امور عامہ کے پاس جاؤ تا کہ ابتدائی معاملے جو امور عامہ طے کیا کرتی ہے شعبہ امور عامہ طے کیا کرتا ہے وہ طے کریں یا اصلاح وارشاد کے پاس جاؤ یا امیر کے پاس پہنچو۔ان کو کہو تم میرے باپ کی جگہ ہو ، تم سارے نظام کے امیر مقرر کئے گئے ہو تمہارے دائرے میں ایک واقعہ ہو رہا ہے تحقیقات کرواؤ یا تو سمجھانے کی کوشش کرو اور اگر نہیں سمجھ سکتا تو پھر ہمیں بتاؤ کہ ہمیں کیسی کا روائی کرنی چاہئے تا کہ معاملہ نہی ہو سکے۔اس لجنہ کی عہدیداروں کو یہ بھی خیال نہیں آتا کہ قرآن کریم جو وہ بار بار پڑھتی ہیں اور اکثر ان میں سے ترجمہ بھی جانتی ہیں عہد یداروں میں سے، اس میں لکھا ہوا ہے کہ جب نجی جھگڑے ہوں تو :۔حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا (النساء: ٣٦) یہ دوفریق مقرر ہوں ایک مرد کے اہل سے اور ایک عورت کے اہل سے جو حکم ہوں ان میں فیصلہ کرنے کی طاقت ہو خدا تعالیٰ نے ان کو حکمت عطا فرمائی ہوان کو چنو وہ آپس میں بیٹھیں اور معاملے طے کریں اور اگر وہ نہیں ہو سکتے تو پھر قضاء کا رستہ کھلا ہے ہر شخص کے لئے۔یہ کرنے کی بجائے اس قدر چسکا اٹھایا ان باتوں میں کہ سارا نظام وہاں درہم برہم ہو گیا اور وہ اجلاس ملتوی ہو گئے وہ گھیرے پڑ گئے اس لڑکی کے اردگر داور سارے اکٹھے ہو گئے جلسے کی باتیں سننے کی بجائے، تقریریں سننے کی بجائے محفل لگ گئی اور باتیں شروع ہو گئی بڑا ظلم ہو گیا بڑا ندھیر ہو گیا فلاں نے اتنا یہ کر دیا فلاں نے وہ کر دیا اور پھر اس میں اپنی زبان درازیوں میں اور طعن میں خلیفہ وقت کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔اس لڑکی نے پھر اور بھی درد ناک باتیں بیان کیں کہ میرے والدین سے یک طرفہ باتیں سن کر خلیفہ وقت نے بائیکاٹ کر دیا ہے ، ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔اس لئے کہ اس کے ارد گرد دو تین حاشی حواشی ایسے ہیں جو یک طرفہ باتیں اس کے کانوں میں ڈالتے ہیں۔اس وقت بھی کسی کو خدا کا خوف نہیں آیا کہ اب حملہ ایسی جگہ کیا جا رہا ہے جہاں حد سے زیادہ تصادم ہے، دنیا نے سمائے دنیا پر حملہ کر دیا ہے جیسے اسی قسم کا واقعہ ہے یا اس سے بڑھ کر نوعیت کا ہے اور کسی کو خیال نہیں آتا اور دو قسم کے مزاج کے لوگ ایک ہی بات کہتے ہیں اس کے نتیجے میں اس کا منہ پھر بھی بند نہیں کرایا جاتا یعنی