خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 801 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 801

خطبات طاہر جلد ۶ 801 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۷ء عاملہ سے کوئی نہیں ہے براہ راست مجلس عاملہ ایک نظام جماعت کے تابع مخصوص کاموں کے لئے مقرر کی جاتی ہے اس میں ایک سیکرٹری امور عامہ بھی ہے، ایک سیکرٹری اصلاح وارشاد بھی ہے۔ان کا تعلق ایسے جھگڑوں سے صرف اس حد تک ہے کہ وہ فریقین کو جا کر سمجھا ئیں اور ان کو یہ بتائیں کہ یہاں آپ کی غلطی ہے وہاں دوسرے کی غلطی ہے۔پیار اور محبت کے ساتھ ان کو سمجھا کر ان کی کمزوریوں کی طرف متوجہ کریں لیکن ان کا یہ کام ہرگز نہیں ہے کہ انفرادی حیثیت سے یا اجتماعی حیثیت سے قاضی بن جائیں۔قضاء کا الگ ایک نظام موجود ہے اور جتنے نجی جھگڑے ہیں وہ سارے اس نظام کا کام ہے کہ ان کو طے کرائے جب اصلاحی کوششیں جو نصیحت کا رنگ صرف رکھتی ہیں اور نصیحت کرنا تصادم نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم نے ہر شخص کو نصیحت کے اوپر مامور فرما دیا ہے۔اس لئے یہ بھی سمجھ لیں اچھی طرح کہ کسی کو نصیحت کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اس سے متصادم ہو رہے ہیں اس لئے اگر آپ کو کوئی نصیحت کرتا ہے تو آپ کو یہ حق نہیں ہے کہ میرے معاملات میں کیوں دخل دیتے ہو۔جاؤ تم اپنے معاملے سے معاملہ رکھو۔یہ حماقت ہے یہ زندگی کی حقیقت کو نا سمجھنے کے نتیجے میں جواب پیدا ہوتا ہے۔جو آدمی نصیحت کرتا ہے وہ ٹکرا تا نہیں ہے وہ ایک مشورہ دیتا ہے ایک بیرونی آئینہ دکھاتا ہے اسی لئے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ نے ایک مومن کو دوسرے مومن کا آئینہ قرار دے دیا ( ابو داؤد کتاب الادب ، حدیث نمبر: ۴۲۷۲)۔آئینہ اگر متصادم ہوگا تو ٹوٹ جائے گا لیکن آئینہ اگر صحیح صورت صرف دکھا دے گا خاموشی سے اور اس کا پرو پیگنڈ انہیں کرتا کسی اور کو کسی کے چہرے کا نقص نہیں بتا تا تو اس کا نام تصادم بہر حال نہیں ہے۔اس لئے نصیحت کرنا ان کا کام ہے اور جہاں معین بعض اختیارات امور عامہ کے سیکرٹری کو دیئے گئے ہیں ان اختیارات کو استعمال کرنا اس کا کام ہے لیکن نجی معاملات میں یا مالی اختلافات میں قاضی بن کر بیٹھ جانا اور فیصلوں کا پابند کرنے کی کوشش کر نا اور جو ان فیصلوں پر پابندی نہ کرے ان کے خلاف شکایتیں کرنا کہ اس کو سزاملنی چاہئے یہ سارا محض فساد ہے۔اگر کوئی ایسا فریق جس کے متعلق کوئی شخص مدار سے ہٹ کر کاروائی کرتا ہے جو ابا بد تمیزی اختیار نہیں کرتا ، گالی گلوچ سے کام نہیں لیتا، عوام الناس میں پرو پیگنڈا نہیں کرتا بلکہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے بالا منتظمین تک بات کو پہنچادیتا ہے تو اس کا نام تصادم نہیں ہے اور اگر ایسا واقعہ ہوتو کوئی فساد آپ کو نظر نہیں آئے گا۔جس نے