خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 4

خطبات طاہر جلد ۶ 4 خطبه جمعه ۲ / جنوری ۱۹۸۷ء دل میں بھی خیال آتا ہے کہ میں بھی مبارک باد دوں ، وہ بھی خوشیوں کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ حقیقی طور پر عارف ہے تو اس خوشی کے اظہار کی اس کو قیمت دینی پڑے گی اور بے قیمت اور بے مقصد اور بے وجہ اس کی خوشی کا اظہار اس پر پھبتا نہیں ، اس کے لئے جائز نہیں کیونکہ ایک مومن کا رد عمل ایک کافر کے رد عمل سے بالکل مختلف ہونا چاہئے معنی خیز ہونا چاہئے ، کوئی زندگی کا اس کا حصہ لغو میں شمار نہیں ہونا چاہئے ۔ تو مبارک باد تو دینے کا مومن کا بھی دل چاہتا ہے، اس کا حق بھی ہے بلکہ اگر غور کریں تو صرف اسی کا حق ہے۔ لیکن اس مبارکباد کی کچھ اس کو قیمت دینی ہوگی ۔ مبارک بادان معنوں میں وہ دے سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرے ذمے جو دنیا کے حالات بدلنے کی اہم ذمہ داری ڈالی ہے، میں مبارک باد تمہیں دیتا ہوں اے میرے بھائیوں ! میری بہنو! میری بیویو! میرے بچو! میرے بڑو اور میرے چھوٹو اے مسلمانو! اور غیر مسلمو! میں تمہیں مبارکباد دیتا ہوں کہ میں ایک نئے عزم کے ساتھ اس سال میں داخل ہو رہا ہوں کہ مجھ سے تم تک بھلائی پہلے سے زیادہ قوت اور شدت کے ساتھ پھوٹے گی ، پھوٹ کر پہنچے گی اور میں بالا رادہ کوشش یہ کروں گا کہ میرا فیض نسبتا زیادہ عام ہو، اس میں پہلے سے زیادہ قوت ہو اور اس میں کم تعصبات پائے جائیں۔ میں پہلے سے بڑھ کر کوشش کروں گا کہ صلى الله سب سے علی بڑا فیض رسان وجود یعنی حضرت محمد مصطفی ام کا فیض جس طرح ہر خاص و عام کے لئے عام تھا ، ہر شرق و غرب میں بسنے والے کے لئے عام تھا ، انسانوں کے لئے بھی تھا اور جانوروں کے لئے بھی تھا، جانداروں کے لئے بھی تھا اور بے جانوں کے لئے بھی تھا۔ اسی طرح میں بھی اپنے فیض کو ہر اس سمت میں آگے بڑھانے کی کوشش کروں گا جس سمت میں حضرت اقدس محمد اصلى مصطفی ﷺ کا فیض موجیں مارتا ہوا بڑھتا رہا۔ یہ عہد لے کر جب ایک مومن ایک وقت کے نئے دور میں داخل ہوتا ہے تو اس کا حق ہے کہ وہ دوسروں کو مبارک باد دے اور وہ مستحق ہے کہ اسے مبارکباد دی جائے کیونکہ اس کے اوپر قرآن کریم کی اس آیت کا بھی اطلاق ہو گا:۔ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأولى (انی: ۵) خدا اس سے مخاطب کر کے، اس کی تقدیر اس کو ط الضيا