خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 782 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 782

خطبات طاہر جلد ۶ 782 خطبہ جمعہ ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء ساتھ ایک اور نظارہ بتایا کہ یہ نظارہ بھی میں نے دیکھا مجھے اس کی تعبیر چاہئے۔تو جب میں نے ان کو سمجھایا تو ان کی بالکل کیفیت بدل گئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دلچسپی اور بڑھ گئی یہاں تک کہ انہوں نے کہا کہ آپ اب ٹیلی ویژن پر انٹرویو کے لئے جا رہے ہیں تو مجھے اجازت ہے میں بھی ساتھ آجاؤں؟ میں نے کہا ہاں شوق سے آئیں اور وہاں بھی بیٹھے رہے اور بڑا ہی چہرے پہ محبت کے آثار ظاہر ہورہے تھے۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ میں نے دیکھا ہے جب اللہ تعالیٰ دل بدلنا چاہتا ہے تو بالکل اچانک بدل دیتا ہے جیسے مشرق سے کسی کا سر پکڑ کے مغرب کی طرف کر دے۔رسول اکرم ﷺ نے یہی نقشہ کھینچا ہے فرمایا خدا کی دوانگلیوں کے درمیان اس طرح دل ہیں یوں اس کو پلٹ دے تو رُخ ادھر ہو جاتا ہے یوں کر دے تو رخ ادھر ہو جاتا ہے اور خدا ہی کے ہاتھ میں دل ہے (مسلم کتاب القدر حدیث نمبر ۴۷۹۸)۔اس لئے کوئی بھی دورہ کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک دعاؤں پر انحصار نہ ہو اور جب اللہ تعالیٰ فضل فرمائے تو معمولی کوششوں کے بھی اچھے نتیجے ظاہر ہوتے ہیں اچھے پھل ظاہر ہوتے ہیں وہاں بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بے ساختہ اچانک پھل ملتے رہے۔واشنگٹن میں جو سب سے اہم جگہ ہے امریکہ کی طاقت کے سرچشموں کا مرکز ہے وہاں جو مجلس ہوئی وہاں غیر احمدی مسلمانوں کی طرف سے ایک باقاعدہ منظم سازش کے نتیجے میں شرارت کی کوشش کی گئی اور بعض سوالات ایسے کئے گئے جس کے نتیجے میں ان کا خیال تھا کہ جو مسلمان آئے ہوئے ہیں اور ان میں بڑی بڑی اہم شخصیتیں شامل تھیں کیونکہ واشنگٹن چونکہ مرکز ہے وہاں سارے عالم اسلام سے اہم لوگ آکے بسے ہوئے ہیں اور پاکستان کے نمائندہ بھی وہیں ہیں زیادہ تر۔وہاں بڑی منظم سازش کی گئی اور بعض ایسے سوال اٹھائے گئے جن کے نتیجے میں وہ لوگ سمجھتے تھے کہ دوسرے مسلمانوں پر اگر کوئی نیک اثر پڑ رہا ہے تو وہ فورا اٹل جائے گا۔اس کا الٹ نتیجہ خدا نے پیدا کیا ان کے نقطہ نگاہ سے اور جتنی کوشش کی گئی جماعت کے اثر کو مٹانے کی اتنی ہی زیادہ قوت کے ساتھ جماعت کا اثر ظاہر ہوا۔چنانچہ مجلس ختم ہونے سے پہلے ہی مستورات کے سیکشن سے مجھے پیغام ملا کہ بعض خواتین ہیں غیر مسلم وہ آئیں ہوئیں ہیں وہ اتنا زیادہ دلچسپی لینے لگ گئی ہیں اسلام میں کہ وہ کہتی ہیں کہ ہماری پیاس نہیں بجھے گی اگر وہ ہمارے پاس آکر خود بالمشافہ ہمیں موقع نہ دیں گفتگو کا اور بعض سوال جو ہم