خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 777
خطبات طاہر جلد ۶ 777 خطبہ جمعہ ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء جب بھی اس مسئلے کو چھیڑا جائے تو فوراً محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ایک مبہم سا احساس تو کم از کم ہر دل میں موجود ہے لیکن بعض لوگوں میں باشعور احساس ہے ، شدت سے اس کے خلاف رد عمل پیدا ہورہا ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ وہ کس طرح اس مصیبت سے آزاد ہو سکتے ہیں۔پھر بین الاقوامی سیاست نے بھی وہاں رخنے ڈالے ہوئے ہیں اور بعض خرابیوں کو بڑھا رہے ہیں مثلاً جن کو کالا امریکن کہا جاتا ہے ہم ان کو Afro-American کہتے ہیں کیونکہ Afro-American لفظ میں کوئی تذلیل نہیں لیکن بدبختی سے کالا امریکن کے اندر ایک تذلیل کا پہلو داخل ہو چکا ہے اس لئے میں ہمیشہ اس اصطلاح سے گریز کرتا رہا اور جماعت کو بھی یہی کہتا رہا کہ اس اصطلاح سے اس لئے گریز کریں کہ Black Americans لفظ میں ایک تذلیل کا ، جس طرح پہلے زمانوں میں Nigger کے لفظ میں تذلیل کا پہلو پایا جاتا تھا اس میں بھی داخل ہو چکا ہے اور ہمیں Afro-American کہنا چاہئے۔تو African Americans میں بھی بین الاقوامی سازشیں کام کر رہی ہیں اور جو سینکڑوں سال کی محرومی کا احساس ہے اس کو مشتعل کر کے خودان کو اپنے مفاد کے خلاف غلط رستوں پر ڈالا جا رہا ہے اور سیاہ اور سفید کی تفریق کو اس رنگ میں ابھارا جا رہا ہے کہ اس کے نتیجے میں سیاہ فام اپنے حقوق لینے کی بجائے پہلے سے بھی زیادہ بدتر حال تک پہنچ جائیں اور عملاً اشتعال انگیزی کے لئے غیر قو میں اور غیر طاقتیں اپنے روپے کے بل بوتے پر ان کو استعمال کر رہی ہیں۔پھر مذہب کے معاملے میں بھی ان کے ساتھ کھیلا جارہا ہے یہاں تک ظلم ہے کہ اسلام کے نام پر قتل و غارت کی تعلیم دینے والی تنظیموں نے ان میں سے ایک بڑے حصے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور مختلف ناموں سے اس وقت اسلامی فرقے وہاں کام کر رہے ہیں اور ان سب کے پیچھے کسی بیرونی طاقت کا ہاتھ ہے کسی تیل کی طاقت کا ہاتھ ہے جسے وہ اپنے طور پر استعمال کر رہی ہے، جس کو کہتے ہیں Petrodollars وہ وہاں خرچ کر کے تو ان سب تنظیمات کے اخراجات مہیا کئے جاتے ہیں اور ان کو مساجد اور مراکز بنا کے دیئے جاتے ہیں اور پھر ان کی پالیسیز (Policies) پہ نہ صرف کنٹرول ہوتا ہے بلکہ عملاً ان کو لیڈرشپ بھی باہر سے مہیا کی جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں بعض بڑے بڑے خطرناک رجحانات ان لوگوں میں اسلام کے نام پر داخل کئے جار ہے ہیں۔ایک یہ بھی وجہ ہے جس کی وجہ سے اسلام مزید بد نام ہورہا ہے۔