خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 772
خطبات طاہر جلد ۶ 772 خطبه جمعه ۲۰ نومبر ۱۹۸۷ء تقریبات میں خطابات کرنے نہیں بلکہ جماعتی حالات کا جائزہ لینا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ کس حد تک وہاں کی جماعت ان مختلف ہدایات سے استفادہ کر رہی ہے جو گزشتہ چند سالوں میں میں خصوصیت کے ساتھ جماعت کو دیتارہا ہوں اور اسی طرح بعض ایسے مسائل ہیں جن کا امریکہ سے بطور خاص تعلق تھا ان مسائل کو سمجھنے کے لئے بھی ہر طبقہ جماعت سے تفصیلی ملاقات کی یا بعضوں سے ان میں سے تفصیلی ملاقات کی ضرورت تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مقصد بہت عمدگی سے پورا ہوا لیکن اس سے استفادہ کرتے ہوئے وہاں کی جماعتوں نے ہر جگہ دوسرے پروگرام بھی بنائے ہوئے تھے اس میں کئی قسم کے پروگرام شامل تھے پبلک ایڈریسز (Public Addresses) اور یعنی عام مجالس سے خطاب اور پھر سوال و جواب کا موقع فراہم کرنا ان میں پاکستانی احباب جو امریکہ میں بسے ہوئے ہیں ان کے لئے بھی مجالس منعقد کی گئیں اور امریکن اور مغربی ممالک کے رہنے والے افراد کے لئے بھی الگ مجالس مقرر کی گئیں اور اسی طرح جس طرح انگلستان میں ہم مجالس سوال و جواب منعقد کرتے رہے ہیں جماعتی طور پر بھی مجالس سوال و جواب منعقد کی گئیں۔پھر پریس سے انٹرویو بھی کثرت کے ساتھ ہوئے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ساتھ انٹرویو بھی ہوئے۔پھر بعض مشہور شخصیتوں اہم شخصیتوں سے ملاقات کا بھی انتظام کیا گیا لیکن ان اجتماعی تقریبات میں سب سے اہم تقریبات وہ تھیں جن کا مساجد کی تعمیر یا مساجد کی افتتاح سے تعلق تھا۔اس پہلو سے جو بہت ہی خوش کن خبر ہے وہ یہ ہے کہ اس دورے میں تین مساجد کے افتتاح کی توفیق ملی۔ان میں سے ایک فلاڈلفیا میں ایک ہماری چھوٹی سی جماعت ہے ان میں بعض بہت ہی مخلص فدائی نمبر ہیں جنہوں نے زیادہ بوجھ اٹھایا ہے اور اللہ کے فضل سے اپنی توفیق سے جیسا کہ نظر آتا ہے بڑھ کر تو نہیں کہہ سکتے لیکن توفیق کے آخری کناروں تک پہنچ کر بڑی ہمت سے انہوں نے بہت ہی خوبصورت جگہ جماعت کے لئے خریدی اور وہاں پہلے سے ایک عمارت موجود تھی اس پر مزید کام کر کے مزید اس کا نقشہ بدل کر اس میں ایک مسجد بنائی گئی ، مستورات کے لئے الگ مردوں کے لئے الگ اور کافی وسیع فلورز (Floors) یعنی ایسے کمرے ہیں ہال قسم کے جن کو مسجد میں تبدیل کیا گیا ہے اور دیگر ضروریات کا بھی خیال رکھا گیا۔چنانچہ اللہ کے فضل سے بہت ہی اچھی جگہ انہوں نے حاصل کر لی ہے۔